مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْمَاءِ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ وَمَا جَاءَ فِي ذَلِكَ · حديث 254
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ الْتَمَسَ لِعُمَرَ وَضُوءًا فَلَمْ يَجِدْهُ إِلَّا عِنْدَ نَصْرَانِيَّةٍ، فَاسْتَوْهَبَهَا وَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ فَأَعْجَبَهُ حُسْنُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: «مِنْ أَيْنَ هَذَا؟» فَقَالَ لَهُ: مِنْ عِنْدِ هَذِهِ النَّصْرَانِيَّةِ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا: «أَسْلِمِي» فَكَشَفَتْ عَنْ رَأْسِهَا فَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ بَيْضَاءُ، فَقَالَتْ: أَبَعْدَ هَذِهِ السِّنِّ؟
زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ اُنہوں نے حضرت عمر کے لیے وضو کا پانی تلاش کیا تو اُنہیں پانی صرف ایک عیسا ئی عورت کے پاس سے ملا اُنہوں اُس عورت سے وہ پانی بلامعاوضہ حاصل کیا اور اُسے لے کر حضرت عمر کے پاس آئے وہ پانی حضرت عمر کو بہت اچھا لگا حضرت عمر نے دریافت کیا : یہ کہان سے آیا ہے ؟ تو اسلم نے اُنہیں بتایا کہ ایک عیسائی عورت سے لے کر آیا ہوں پھر حضرت علی اُس پانی سے وضو کیا پھر اُس عورت کے پاس تشریف لے گئے اور اُسے فرمایا :تم اسلام قبول کر لو ! اُس عورت نے سر سے چادر ہٹائی تو اُ کے سارے بال سفید ہو چکے تھے ۔ اُس نے کہا : اتنی عمر ہو جانے کے بعد( میں اپنا دین تبدیل کر لوں)۔
أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 254
