مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ · حديث 184
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرٍ الْأَعْرَابِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ فَقَالَ: «أَفَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟» قَالُوا: فكَيْفَ، وَهِيَ مَيْتَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنَّمَا حُرِّمَ لَحْمُهَا»
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سیدہ میمونہ کی کنیز کی مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اس کی کھال کے ذریعے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے ؟ لوگوں نے عرض کی: یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ یا رسول اللہ ! یہ تو مردار ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے گوشت کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔
فكَيْفَ، وَهِيَ مَيْتَةٌ ← مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى شَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ فَقَالَ: «أَفَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← قَرَأْنَا عَلَى عَبْدِ الرَّزَّاقِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرٍ الْأَعْرَابِيُّ
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter of the skins of the dead, when tanned · Hadith 184
