مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَنْ يَطَأُ نَتْنًا يَابِسًا أَوْ رَطْبًا · حديث 95
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بِمِنًى «يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَخْرُجُ وَهُوَ حَافٍ فَيَطَأُ مَا يَطَأُ، ثُمَّ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ»
بکر بن عبداللہ مزنی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو منٰی میں وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر وہ باہر تشریف لائے تو اُن کے پاؤں میں جوتا نہیں تھا اُن کے پاؤں کے نیچے جو بی آیا وہ آگیا پھر وہ مسجد میں داخل ہوئے اور اُنہوں نے نماز ادا کر لی اور ازسر نووضو نہیں کیا ۔
بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← أَبِيهِ ← ابْنُ التَّيْمِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 95
