مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ شُهُودِ النِّسَاءِ الْجَمَاعَةَ · حديث 5117
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: كَانَ يُقَالُ: صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا فِي دَارِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو عُمَرُ: وَلِمَ تُطَوِّلُ؟ سَمِعْتُ رَبَّ هَذِهِ الدَّارِ ـ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ـ يَحْلِفُ فَيُبْلِغُ فِي الْيَمِينِ: «مَا مُصَلَّى لِامْرَأَةٍ خَيْرٌ مِنْ بَيْتِهَا، إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ إِلَّا امْرَأَةٌ قَدْ يَئِسَتْ مِنَ الْبُعُولَةِ فَهِيَ فِي مِنْقَلَيْهَا»، قِيلَ: مَا مِنْقَلَيْهَا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «امْرَأَةٌ عَجُوزٌ قَدْ تَقَارَبَ خَطْوُهَا»
5117 - ابو عمرو شیبانی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص آیا اور بولا: یہ بات کہی جاتی ہے کہ عورت کے لیے اپنے کمرے کے اندر نماز ادا کرنا کمرے سے باہر نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ۔ تو ابو عمرو نے اُسے جواب دیا: تم اتنا طویل کیوں دے رہے ہو میں نے اس گھر کے مالک کو یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود کو اس بات پر قسم اُٹھاتے ہوئے سنا ہے: کسی بھی عورت کے لیے اُس کے گھر سے زیادہ اچھی جائے نماز اور کوئی نہیں ہے البتہ حج یا عمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور اُس عورت کا معاملہ مختلف ہے جو عمر رسیدہ ہو چکی ہو وہ چھوٹے قدم اُٹھاتی ہے۔
أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← أَبِيهِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The section of the Witnesses of the congregation · Hadith 5117
