مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى · حديث 4861
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بٍثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ، وَذَلِكَ فِي الضُّحَى فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ»، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتَلَ فُلَانَ ابْنَ أُمَيَّةَ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَارَتْ أُمُّ هَانِئٍ»
4861 - سیدہ اُم ہانی بیان کرتی ہیں: میں فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ نے کپڑے کے ذریعہ آپ کے لیے پردہ کیا ہو اتھا ۔ میں نے سلام کیا: یہ چاشت کے وقت کی بات ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کون ہے ؟ میں نے جواب دیا: اُم ہانی بنت ابو طالب ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اُم ہانی کو خوش آمدید! جب نبی اکرمﷺ غسل کر کے فارغ ہوئے تو آپ نے ایک کپڑے ک التحاف کے طور پر لپیٹ کر آٹھ رکعات ادا کیں جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں جائے یہ کہتے ہیں کہ وہ فلاں بن اُمیہ کو قتل کر دیں گے اور وہ ایک ایسا شخص ہے جسے میں پناہ دے چکی ہوں۔ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اُم ہانی نے جسے پناہ دی ہے اُسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں ۔
«مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ← فَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بٍثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ، وَذَلِكَ فِي الضُّحَى ← سَمِعْتُهَا تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، ← أُمِّ هَانِئٍ ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ ← مَيْمُونِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to the Duha prayer · Hadith 4861
