عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , قَالَ: خَلَعَ قَوْمٌ هَذْلِيُّونَ سَارِقًا مِنْهُمْ كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ , قَالُوا: قَدْ خَلَعْنَاهُ , فَمَنْ وَجَدَهُ , يَسْرِقُ فَدَمُهُ هَدَرٌ , فَوَجَدَتْهُ رُفْقَةٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ , يَسْرِقُهُمْ فَقَتَلُوهُ فَجَاءَ قَوْمُهُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَحَلَفُوا بِاللَّهِ مَا خَلَعْنَاهُ , وَلَقَدْ كَذَبَ النَّاسُ عَلَيْنَا , «فَأَحْلَفَهُمْ عُمَرُ خَمْسِينَ يَمِينًا» , ثُمَّ أَخَذَ عُمَرُ بِيَدِ رَجُلٍ مِنَ الرُّفْقَةِ , ثُمَّ قَالَ: «أَقْرِنُوا هَذَا إِلَى أَحَدِكُمْ , حَتَّى تُؤْتَوْا بِدِيَةِ صَاحِبِكُمْ» فَفَعَلُوا , فَانْطَلَقُوا , حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْ أَرْضِهِمْ , أَصَابَهُمْ مَطَرٌ شَدِيدٌ , فاسْتَتَرُوا بِجَبَلٍ طَوِيلٍ , وَقَدْ أَمْسَوْا , فَلَمَّا نَزَلُوا كُلُّهُمْ , انْقَضَّ الْجَبَلُ عَلَيْهِمْ , فَلَمْ يَنْجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ , وَلَا مِنْ رِكَابِهِمْ , إِلَّا التَّرِيكُ , وَصَاحِبُهُ , فَكَانَ يُحَدِّثُ بِمَا لَقِيَ قَوْمُهُ
ابو قلابہ بیان کرتے ہین: ہذیل قبیلے کےافراد نے اپنے میں سے ایک چور کو الگ کر دیا جو حاجیوں کا سامان چوری کیا کرتا تھا ان لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ ہم لوگت اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں جو شخص اس کو پائے کہ یہ چوری کر رہا ہے تو اس کا خون رائیگاں جائے گا یمن کے کچھ سواروں نے اس شخص کو پکڑ لیا وہ ان کا سامان چوری کر رہا تھا ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا مقتول کی قوم کے افراد حضرت عمر کے پاس آئے اور انہوں نے اللہ کے نام کا حلف اٹھایا کہ ہم نے اس سے لا تعلقی کا اظہار نہیں کیا لوگوں نے ہماری طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے تو حضرت عمر نے ان سے پچاس قسمیں لیں پھر حضرت عمر نے یمن کے سواروں میںسے ایک شخص کا ہاتھ پکڑا اور پھر فرمایا اس کو اپنے میں سے کسی کےساتھ رکھ لو جب تک تم اپنے متعلقہ فرد کی دیت ادا نہیں کرتے ۔
أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،