مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ قَوَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ · حديث 18037
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ، فَقَالَ: حَاجَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْنِي فَسَتُدْرِكُ حَاجَتَكَ» فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَالرَّجُلُ يَأْبَى فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْهِ السَّوْطَ فَضَرَبَهُ، وَقَالَ: «دَعْنِي سَتُدْرِكُ حَاجَتَكَ» فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي جَلَدْتُهُ آنِفًا؟ قَالَ: فَنَظَرَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي جَلَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَجَاءَ الرَّجُلُ مِنْ آخَرِ الصُّفُوفِ، فَقَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهُ مِنْ غَضَبِ [ص:466] اللَّهُ وَغَضِبِ رَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْنُ فَاقْتَصَّ»، فَرَمَى إِلَيْهِ بِالسَّوْطِ قَالَ: بَلْ أَعْفُو قَالَ: «أَوْ تَعْفُو؟» فَقَالَ إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنًا، فَلَا يُعْطِيهِ مَظْلَمَتَهُ فِي الدُّنْيَا إِلَّا انْتَقَمَ اللَّهُ لَهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا نَبِيَّ اللَّهُ أَتَذْكُرُ لَيْلَةَ كُنْتُ أَقُودُ بِكَ الرَّاحِلَةَ، فَإِذَا قُدْتُهَا أَبْطَأتْ، وَإِذَا سُقْتُهَا اعْتَرَضَتْ، وَأَنْتَ نَاعِسٌ عَلَيْهِا فَخَفَقْتُ رَأْسَكَ بِالْمِخْفَقَةِ، وَقُلْتُ: إِيَّاكَ، إِيَّاكَ وَالْقَوْمَ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَاسْتَقِدْ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «بَلْ أَعْفُو» قَالَ: بَلِ اسْتَقِدْ مِنِّي أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ: فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ، رَأَيْتُهُ يَتَضَوَّرُ مِنْهَا
ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرمﷺ اپنے گھر سے باہر تشریف لائے آپ کا ارادہ نماز پڑھانے کا تھا اسی دوران ایک شخص نے آپ کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور بولا یا رسول اللہ! مجھے کام ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم مجھے چھوڑ دو تھوڑی دیر بعد تمہاری ضرورت پوری ہو جائے گی نبی اکرمﷺ نے تین مرتبہ یہی بات فرمائی لیکن اس شخص نے یہ بات نہیں مانی تو نبی اکرمﷺ نے اپنی چھڑی اٹھا کر اس شخص کو مار دی اور فرمایا : تم مجھے چھوڑ دو تمہاری ضرورت تھوڑی دیر بعد پوری ہو جائے گی پھر نبی اکرؐﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ ﷺ نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت کیا وہ شخص کہاں ہے جسے میں نے تھوڑی دیر پہلے مارا تھا ؟ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے انہوں نے دریافت کیا: وہ کون شخص ہے ؟ جسے نبی اکرؐﷺ نے مارا تھا آخری صفوں میں سے ایک شخص آگے آیا اور بولا میں اللہ کے غضب اور اللہ کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
حَاجَتِي ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › The door of the fuel of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, on his own · Hadith 18037
