مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمُدَبَّرِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُعْتِقُ رَقِيقَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ · حديث 16771
قَالَ: الثَّوْرِيُّ: فِي " امْرَأَةٍ تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ أُخْتَهَا وَزَوْجَهَا، وَأَعْتَقَتْ غُلَامًا ثَمَنُهُ خَمْسُمِائَةٍ، وَعَلَى زَوْجِهَا سَبْعُمِائَةٍ فَإِذَا الزَّوْجُ مُفْلِسٌ قَالَتِ الْأُخْتُ لِلْعَبْدِ: إِنَّمَا أَنَا وَأَنْتَ شَرِيكَانِ لَيْسَ لَكَ إِلَّا أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ إِنْ خَرَجَ الْمَالُ فَقَدْ تَوِيَ الَّذِي عَلَى الزَّوْجِ وَتُعْطِي مِائَتَيْنِ مِنَ الْأَرْبَعِ الَّتِي كَانَتْ لَكَ فِي الثُّلُثِ، وَتُعْطِي خَمْسِينَ مِنَ الْمِائَةِ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْكَ، وَتَطْلُبُ الزَّوْجَ بِخَمْسِينَ وَمِائَةٍ "
16771 - سفیان ثوری ایسی خاتون کے بارے میں : جو انتقال کر جاتی ہے اور پس ماندگان میں اپنی بہن اور اپنا شو ہر چھوڑ کر جاتی ہے وہ اپنے غلام کو آزا دکر دیتی ہے جس کی قیمت پانچ سو درہم ہوتی ہے اور اس کے شوہر کے ذمہ سات سو درہم کی ادائیگی لازم ہوتی ہے تو اگر شوہر مفلس ہو اور اس کی بہن غلام سے یہ کہتی ہے : میں اور تم شراکت دار ہیں تمہیں صرف چاہو سود رہم ملیں گے اگر مال نکل ائے پھر شوہر کے ذمہ جو ادائیگی ہو وہ مال ہلاک ہوجاتا ہے ایکتہائی حصے میں سے جو تمہیں چار سو ملنے تھے ان میں سے تم دو سو دیدو اور تےم پرت جو ایک سو باقی ہیں ان میں سے تم پچاس دیدو اور شوہر سے تم ڈیڑھ سو طلب کرو۔
الْأُخْتُ لِلْعَبْدِ: إِنَّمَا
Musannaf Abdul Razzaq · Handbook › A man’s door freeing his kindness at death · Hadith 16771
