مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَالْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ · حديث 4400
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ امْرَأَتَهُ تَمُوتُ قَالَ: سَارَ حَتَّى أَظْلَمْنَا وَظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ قَالَ: فَجَعَلْنَا نَقُولُ: الصَّلَاةَ، وَهُوَ لَا يُجِيبُنَا، حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ رُبْعِ اللَّيْلِ، قَدْرَ مَا يَسِيرُ الْمُثْقَلُونَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى مُزْدَلِفَةَ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجَّلَهُ الْمَسِيرُ أَوْ أَزْمَعَ بِهِ الْمَسِيرُ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ»
4400 - نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر نے مجھے بتایا کہ اُن کی اہلیہ سیدہ صفیہ بنت عبید کا انتقال ہو گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر حضرت عبداللہ بن عمر روانہ ہوئے یہاں تک کہ شام ہو گئی ہم نے یہ گمان کی اکہ شاید وہ بھول گئے ہیں تو ہم نے یہ کہنا شروع کیا : جناب ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ! لیکن اُنہوں نے ہمیں کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ ایک چوتھائی رات رخصت ہو گئی یہ اتنا عرصہ بنتا ہے جتنی دیر میں لوگ سازوسامان سمیت عرفہ سے مزدلفہ جاتے ہیں پھر حضرت عبداللہ بن عمر سواری سے نیچے اُترے اُنہوں نے مغرب کی نماز ادا کی پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور اُنہوں نے فرمایا : نبی اکرمﷺ کو جب تیزی سے سفر کرنا مطلوب ہوتا تھا تو آپ ان دو نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے پھر حضرت عبداللہ بن عمر نے عشا ء کی نماز ادا کی ۔
سَارَ حَتَّى أَظْلَمْنَا وَظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ ← ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ امْرَأَتَهُ تَمُوتُ ← نَافِعٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on the one who forgets the Hadrah prayer, and the combination of the two prayers while traveling · Hadith 4400
