مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ السَّاعَةِ الَّتِي يُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ · حديث 3959
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ بُخْتٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اللَّيْلِ»، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فِي فِتْيَةٍ، فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَى الْقَوْمِ» يَعْنِي بَنِي أُمَيَّةَ
3959 - حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں: میں نے ابو قاسم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی اور عصر کی نماز کے بعد رات آنے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ۔ اس پر عبداللہ بن عیاض نامی راوی نے کہا: حضرت عبداللہ بن زبیر تو عصر کی نماز کے بعد بھی نماز ادا کرتے ہیں اور سورج کے نکلنے سے پہلے بھی نماز ادا کرتے ہیں؟ تو حضرت ابو سعی خدری نے اُن سے فرمایا: حالانکہ وہ خود اس حوالے سے لوگوں پر اعتاضات کیا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں: بنو اُمیہ پر اعتراض کرتے تھے ۔
اَبَا الْقَاسِمِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ ← عَطَاءِ بْنِ بُخْتٍ، كِلَاهُمَا، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ ← ابْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the hour during which prayer is detested · Hadith 3959
