مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الْحِجْرِ وَبَعْضُهُ مِنَ الْكَعْبَةِ · حديث 9151
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ: «أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟» قَالَتْ: أَفَلَا تَرُدُّهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: «إِنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَوْ إِنَّهُمْ حَدِيثُونَ بِكُفْرٍ»
9152 - عبداللہ بن ابو یزید بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے : حضرت عمر مکہ تشریف لائے اُنہو ں نے بنو زہرہ کے ایک بزرگ کو پیغام دے کر بلوایا اور اُن سے زمانہ جاہیلت سے پیدا ہونے والے بچہ کا ذکر کیا تو اُس نے یہ بات بیان کی کہ زمانہ جاہلیت کی خواتین کی عدت نہیں ہوتی تھی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے اُنہوں نے یہ بات بتائی ہے کہ وہ اُس بزرگ کے ساتھ حضرت عمر کے پاس گئے تو حضرت ابراہیم کو حطیم میں بیٹھے ہوئے پایا حضرت عمر نے اُس سے دریافت کیا تو اُس نے کہا: جہاں تک نطفہ کا تعلق ہے تو فلاں شخص سے ہے لیکن جہاں تک بچہ کا تعلق ہے تو وہ فلاں شخص کے بچھونے پر پیدا ہوا ۔ تو حضرت عمر نے کہا: تم نے ٹھیک کہا ہے ! لیکن نبی اکرمﷺ نے بچھونے کے بارے میں حکم دیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ بزرگ کھڑا ہوا تو حضرت عمر نے کہا: تم آؤ اور خانہ کعبہ کی بنیادوں کے بارے میں بتاؤ ۔ تو اُس نے بتایا کہ قریش کے لوگوں نے زمانہ جاہلیت نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے لیے سازو سامان اکٹھا کیا تھا لیکن وہ اسے پورا نہیں کر سکے تھے اور اُنہوں نے اس میں کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا اُنہوں نے اس کی تعمیر میں جو حصہ چھوڑا تھا اُس کا کچھ حصہ حطیم میں ہے ۔ تو حضرت عمر نے کہا: تم نے سچ کہا ہے !
الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Door of the stone and part of the stone · Hadith 9151
