مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ بُنْيَانِ الْكَعْبَةِ · حديث 9103
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ مُجَاهِدٌ: كَانَ عَرِيشًا تَقْتَحِمُهُ الْغَنَمُ حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، بَنَتْهُ قُرَيْشٌ، وَكَانَ رُومِيُّ يَتَّجِرُ إِلَى مَنْدَلٍ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشُّعَيْبَةِ انْكَسَرَتْ سَفِينَتُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى قُرَيْشٍ: أَنْ هَلُمَّ لَكُمْ أُمْدِدْكُمْ بِمَا شِئْتُمْ مِنْ بَانٍ وَنَجَّارٍ وَخَشَبَةٍ، عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمْ حَمْلَهُ، فَتَبْنُوا بَيْتَ إِبْرَاهِيمَ، عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمْ أَنْ تُجْرُوا لِي تِجَارَتِي فِي عِيرِكُمْ [ص:99]، وَكَانَ لِقُرَيْشٍ رِحْلَتَانِ فِي كُلِّ عَامٍ، أَمَّا فِي الشِّتَاءِ فَإِلَى الشَّامِ، وَأَمَّا فِي الصَّيْفِ فَإِلَى الْحَبَشَةِ قَالُوا: نَعَمْ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ بِئْرٌ تَكُونُ فِيهِ الْحِلْيَةُ وَالْهَدِيَّةُ، فَكَانَتْ قُرَيْشُ تَرْتَضِي لِذَلِكَ رَجُلًا، فَيَكُونُ عَلَى تِلْكَ الْبِئْرِ، وَمَا فِيهَا فَبَيْنَا رَجُلٌ كَانَ مِمَّنْ يُرْتَضَى لَهَا، سَوَّلَتْ لَهُ نَفْسُهُ أَنْ يَخْتَانَ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتِ الظِّلَالُ، وَارْتَفَعَتِ الْمَجَالِسُ، بَسَطَ ثَوْبَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فِيهَا، فَأَخَذَ ثُمَّ الثَّانِيَةُ ثُمَّ الثَّالِثَةُ، فَقَضَّ اللَّهُ عَلَيْهِ حَجَرًا فِيهَا فَحَبَسَهُ فِيهَا. . . رَأْسُهُ أَسْفَلُهُ، فَرَاحَ النَّاسُ فَأَخَرَجُوهُ فَأَعَادَ مَا كَانَ أَخَرَجَ مِنْهَا، فَبَعَثَ اللَّهُ ثُعْبَانًا، فَأَسْكَنَهُ إِيَّاهَا، فَكَانَ إِذَا أَحَسَّ عِنْدَ الْبَابِ حِسًّا أَطْلَعَ رَأْسَهُ، فَلَا يَقْرَبُهُ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ، فَلَمَّا حَضَرَ الْقَوْمُ حَاجَتَهُمْ قَالُوا: كَيْفَ بِالدَّابَةِ الَّتِي فِي الْبَيْتِ "، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ: اجْتَمِعُوا فَادْعُوا رَبَّكُمْ، فَإِنْ تَكُنِ الَّذِي ائْتَمَرْتُمْ للَّهِ رِضًى، فَهُوَ كَافِيكُمُوهُ، وَإِلَّا فَلَا تَسْتَطِيعُونَهَا قَالَ: فَدَعَوُا اللَّهَ فَبَعَثَ اللَّهُ طَائِرًا فَدَفَّ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا أَحَسَّتْهُ الْحَيَّةُ أَطْلَعَتْ رَأْسَهَا، فَخَطَفَهَا فَذَهَبَ بِهَا كَأَنَّهَا خَشَبَةٌ يَقُولُ: كَأَنَّهَا تَظُنُّهُ لَا يَكَادُ حَمَلَهَا حَتَّى وَعَلَا سُلَّمًا كَانَتْ بِمَكَّةَ فَلَمْ تُرَ بَعْدُ، وَبَنَتْ قُرَيْشٌ، فَلَمَّا جَاءَ [ص:100] مَوْضِعُ الرُّكْنِ تَحَاسَرَتِ الْقَبَائِلُ، فَقَالَتْ هَذِهِ الْقَبِيلَةُ: نَحْنُ نَرْفَعُهُ، وَقَالَتْ هَذِهِ الْقَبِيلَةُ: نَحْنُ نَرْفَعُهُ قَالُوا: فَأَوَّلُ رَجُلٍ يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْبَابِ الْأَعْلَى يَقْضِي بَيْنَنَا، فَدَخَلَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ اقْضِ بَيْنَنَا، فَقَالَ: «ضَعُوا ثَوْبًا ثُمَّ ضَعُوهُ فِيهِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ» فَفَعَلُوا وَأَخَذَ هُوَ الرُّكْنَ فَجَعَلَ يَدَهُ تَحْتَدُّ فَكَانَ هُوَ الَّذِي رَفَعَهُ مَعَهُمْ حَتَّى وَضَعَهُ مَعَهُمْ مَوْضِعَهُ الْآنَ
9103- ابن جریح بیان کرتے ہیں: مجاہد نے یہ بات بیان کی ہے : خانہ کعبہ کی چھت کے اوپر کوئی بکری بھی چڑھ جایا کرتی تھی یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ کی بعث سے پندرہ سال پہلے قریش نے اس کی تعمیر نو کی ۔ ایک رومی شخص اپنا سامان تجارت مندل لے جایا کرتا تھا ایک مرتبہ وہ شعیبہ کے مقام پر پہنچا تھا کہ اُس کی کشتی ٹوٹ گئی اُس نے قریش نے اپنا پیغام بھیجوایا کہ تم لوگ ادھر آؤ میں جتنی تم چاہو گے اُتنی تمہاری مدد کروں گا جو سازوسامان کے حوالے سے بڑھی کے حوالے سے اور لکڑی کے حوالے سے ہوگی اور شرط یہ ہو گی کہ تم یہ سار ا سازو سامان حاصل کر کے اُس کے ذریعہ حضرت ابراہیم کے بنائے گھر کی تعمیر کرو گے اور پھر تم اپنے قافلہ کے حوالے سے میرے ساتھ تجارت کرو گے اُن دنوں ہر سال قریش کے دو قافلے جایا کرتے تھے گرمی کا قافلہ شام جایا کرتا تھا اور سردی کا قافلہ حبشہ جایا کرتا تھا اُن لوگوں نے کہا:ٹھیک ہے ! اُن دنوں خانہ کعبہ کے اندر ایک کنواں ہوتا تھا جس کے اندر زیورات تھے اور تحائف ہوتے تھے قریش نے اس شخص کو اس بات کا موقع دیا تو وہ شخص اُس کنویں کے پاس آیا اور اُس میں موجود چیز کو دیکھا ابھی وہ شخص اُس کی تعمیر کر رہا تھا کہ اُس کے ذہن میں یہ بات آئی کہ وہ خیانت کرے اُس نے اس بات کا جائزہ لیا کہ جب سائے ڈھل گئے اور محافل ختم ہو گئیں تو اس نے اپن کپڑا بچھایا اس کنویں کے اندر سے نکلا اور وہاں سے کچھ چیزیں نکالیں پھر دوسری مرتبہ نکالیں پھر تیسری مرتبہ نکالیں تو تیسری مرتبہ میں اللہ تعالیٰ نے اُس پر ایک پتھر کو مسلط کیا جس نے اُسے کنویں کے اندر روک دیا اُس کا سر اُس پتھر کے نیچے تھا پھر لوگ آئے اُنہوں نے اُسے باہر نکالا تو اُس نے کنویں میں جو کچھ نکالا تھا اُسے واپس کر دیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک سانپ کو بھیجا جو خانہ کعبہ کے اندر آکر ٹھہر گیا وہ جب بھی کسی شخص کو خانہ کعبہ کے دروازہ کے پاس محسوس کرتا تھا تو اپنا سر باہر نکال لیتا تھا مخلوق میں سے کوئی بھی اُس کے قریب جانے کے لیے تیار نہیں تھا جب لوگوں کو اُس کے اندر جانے کی ضرورت پیش آئی تو اُنہوں نے کہا: خانہ کعبہ کے اندر جو سانہ موجود ہے اُس کا کیا کریں ؟ تو ولید بن مغیرہ نے کہا: تم لوگ اکٹھے ہو کر اپنے پر وردگار سے دعا کرو اگر تو تمہارے پروردگا ر کی رضا مندی ہوئی تو تمہارا پروردگار اُس کے حوالے سے تم لوگوں کے لیے کافی ہو گا ورنہ تم اُس کا کچھ نہیں کر سکتے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے ایک پرندہ کو بھیجا وہ دروازہ پر آکر بیٹھا جب سانپ کو اُس کی آہٹ محسوس ہوئی اور اُس نے اپنا سر باہر نکالا تو پرندہ نے اُسے اُچک لیا اور اُسے لکڑ ی کی طرف اُٹھا کر لے گیا ۔ راوی یہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ سانپ ایسا تھا کہ یہ گمان نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ پرندہ اُسے اُٹھا سکتا ہے ۔ وہ پرندہ اُسے اُٹھا کر لے گیا اُس کے بعد وہ سا نپ نظر نہیں آیا پھر قریش نے اس کی تعمیر نو کی جب حجر اسود کو کو رکھنے کا موقع آیا تو قبائل کے درمیان جھگڑا ہو گیا ایک قبیلہ کا یہ کہنا تھا : اسے ہم اُٹھائیں گے ! دوسرے قبیلہ کا یہ کہنا تھا : اسے ہم اُٹھائیں گے ! پھر لوگوں نے کہا: اس بالائی حصہ والے دروازے کی طرف سے جو شخص اندر آئے گا وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے گا ۔ تو وہاں سے حضرت محمد ﷺ تشریف لائے لوگوں نے عرض کی :اے حضرت محمد! آپ ہمارے درمیان فیصلہ کیجئے! تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگ ایک کپڑا بچھاؤ اور اس میں حجر اسود کو رکھو پھر ہر قبیلہ کا شخص اُس کپڑا کو پکڑے ۔ اُن لوگوں نے ایسا ہی کیا اور پھر اُنہوں نے حجرت اسود کو رکھا تو نبی اکرمﷺ نے بھی اُن کے ساتھ مل کر اُسے اُٹھایا اور آپ نے بھی اُن لوگوں کے ساتھ اُسے اُس جگہ پر رکھا جہاں اب وہ موجود ہے۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of the Kaaba · Hadith 9103
