مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ طَوَافِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مَعًا · حديث 9018
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ مَنَعَ ابْنُ هِشَامٍ النِّسَاءَ الطَّوَافَ مَعَ الرِّجَالِ، فَأَخْبَرَنِي [ص:67] وَقَالَ: كَيْفَ تَمْنَعْهُنَّ الطَّوَافَ؟ وَقَدْ طَافَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الرِّجَالِ. قُلْتُ: أَبَعَدَ الْحِجَابِ؟ قَالَ: إِي لَعَمْرِي أَدْرَكْتُ لَعَمْرِي بَعْدَ الْحِجَابِ، قُلْتُ: كَيْفَ يُخَالِطْنَ الرِّجَالَ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنَّ يَفْعَلْنَ، كَانَتْ عَائِشَةُ تَطُوفُ حَجِزَةً مِنَ الرِّجَالِ لَا تُخَالِطُهُمْ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا: انْطَلِقِي بِنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ نَسْتَلِمُ فَجَذَبَتْهَا وَقَالَتْ: «انْطَلِقِي عَنْكِ» وَأَبَتْ أَنْ تَسْتَلِمَ، وَكُنَّ يَخْرُجْنَ مُسْتَتِرَاتٍ بِاللَّيْلِ، فَيَطُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ لَا يُخَالِطْنَهُمْ قَالَ: وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا دَخَلْنَ الْبَيْتَ سُتِرْنَ حِينَ يَدْخُلْنَ، ثُمَّ أُخِرِجَ عَنْهُ الرِّجَالُ قَالَ: وَكُنْتُ آتِي عَائِشَةَ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهِيَ مُجَاوِرَةٌ فِي جَوْفِ ثَبِيرٍ، قُلْتُ: فَمَا حِجَابُهَا حِينَئِذٍ؟ قَالَ: هِيَ فِي قُبَّةٍ لَهَا تُرْكِيَّةٍ عَلَيْهَا غِشَاءٌ لَهَا، بَيْنَنَا [ص:68] وَبَيْنَهَا قَالَ: وَلكن قَدْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا دِرْعًا مُعَصْفَرًا وَأَنَا صَبِيٌّ "
ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ابن ہشام نے خواتین کو مردوں کے ساتھ طواف کرنےسے منع کر دیا ۔ اُنہوں نے مجھے یہ بات بتا نے کے بعد یہ کہا : تم خواتین کو طواف کرنے سے کیسے منع کر سکتے ہو جبکہ نبی اکرمﷺ کی خواتین مردوں کے ساتھ طواف کیا کرتی تھیں۔ میں نے دریافت کیا: کیا حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میر زندگی کی قسم! میں نے تو حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد ہی یہ صورت حال پائی ہے۔ میں نے کہا: وہ مردوں کے ساتھ کیسے شامل ہوا کرتی تھیں؟ اُنہوں نے جواب دیا: وہ ایسا نہیں کرتی تھیں سیدہ عائشہ مردوں سے ایک طرف ہو کر طواف کیا کرتی تھیں وہ ان کے درمیان شامل نہیں ہوتی تھیں ۔ ایک مرتبہ اُن کی ایک ساتھی خاتون نے کہا: اے اُم المؤمنین! آپ ہمارے ساتھ چلئیے تاکہ ہم استلام کر لیں ۔ تو سیدہ عائشہ نے اُسے کھینچ لیا اور فرمایا:تم چلتی رہو! سیدہ عائشہ نے استلام کرنے سے انکار کر دیا ۔ نبی اکرمﷺ کی خواتین رات کے وقت پردہ کر کے نکلتی تھیں وہ مردوں کے ہمراہ اس طرح طواف کرتی تھیں کہ وہ مردوں کے درمیان نہیں آتی تھیں بلکہ جب وہ خانہ کعبہ میں داخل ہوتی تھیں تو ان کے لیے پردہ کر دیا جاتا تھا اور مردوں کو وہاں سے باہر نکال دیا جاتا تھا ۔ عطا ء بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں اور عبید بن عمیر سیدہ عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اُنہوں نے اُس وقت ثبیر پہاڑ کے درمیان میں اعتکاف کیا ہوا تھا ۔ میں نے دریافت کیا: اُس موقع پر اُنہوں نے کتنا پردہ کیا ہو ا تھا ؟تو عطا ء نے جواب دیا: وہ اپنے ترکی خیمہ میں تھیں جس پر اُ ن کے پردہ ڈالا گیا تھا وہ پردہ ہمارے لیے اور اُن کے درمیا ن تھا ۔ عطا ء نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ اُنہیں معصفر چادر لیے ہوئے دیکھا تھا میں اُس وقت کمسن بچہ تھا ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Gate of the circumambulation of men and women together · Hadith 9018
