مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ · حديث 8802
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ فَرَأَى رَكْبًا فَقَالَ: «مَنِ الرَّكْبُ؟» فَقَالَ: قَالُوا: حَاجِّينَ قَالَ: «مَا أَنْهَزَكُمْ غَيْرُهُ؟» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالُوا: لَا قَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ الرَّكْبُ بِمَنْ أَنَاخُوا لَقَرَّتْ أَعْيُنُهُمْ بِالْفَضْلِ بَعْدَ الْمَغْفِرَةِ، وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ، مَا رَفَعَتْ نَاقَةٌ خُفَّهَا، وَلَا وَضَعَتْهُ، إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً»
8802 - یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب نکلے اُنہوں نے کچھ سواروں کو دیکھا تو دریافت کیا : یہ سوار کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ حج پر جانے والے ہیں حضرت عمر نے تین مرتبہ دریافت کیا : کیا اس کے علاوہ ان کا کوئی مقصد نہیں ہے ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں! تو حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا: اگر ان سواروں کو پتا چل جائے کہ اُنہوں نے جس مقصد کے لیے سفر شروع کیا ہے تو مغفرت کے بعد والی فضیلت سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اُس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں عمر کی جان ہے ! اونٹنی جو بھی قدم اُٹھاتی ہے اور جو بھی قدم رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اُس شخص کے درجات بلند کرتا ہے اور اُس کے گناہ معاف کرتا ہے اور اُس کے نامہ اعمال میں نیکی نوٹ کر تا ہے۔
يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter of the merit of Hajj · Hadith 8802
