مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ ذَبِيحَةِ الْأَقْلَفِ، وَالسَّبِيِّ وَالْأَخْرَسِ وَالزِّنْجِيِّ · حديث 8562
عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَكْرَهُ ذَبِيحَةَ الْأَغَرَلِ وَيَقُولُ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُ، وَلَا تُقْبَلُ صَلَاتُهُ»، قَالَ مَعْمَرٌ: فَسَأَلْتُ عَنْهُ حَمَّادًا فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِذَبِيحَتِهِ، وَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ، وَتُقْبَلُ صَلَاتُهُ» قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ الْحَسَنُ «يُرَخِّصُ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَمَا يَكْبُرُ فَخَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعَنَتَ إِنِ اخْتَتَنَ أَنْ لَا يَخْتَتِنَ، وَكَانَ لَا يَرَى بِأَكْلِ ذَبِيحَتِهِ بَأْسًا»
قتادہ بیان کرتےہیں: حضرت عبداللہ بن عباس غیر ختنہ شدہ شخص کے ذبیحہ کو مکروہ قرار دیتے تھے وہ یہ فرماتے تھے : اس کی گواہی درست نہیں ہو گی اور ا س کی نماز بھی قبول نہیں ہو گی ۔ معمر بیان کرتے ہیں: میں نے حماد سے اس بارے میں دریافت کیا تو اُنہوں نے فرمایا: اُس کے ذبیحہ میں کوئی حرج نہیں ہے اور اُس کی شہادت بھی درست ہو گی اور اُس کی نماز بھی قبول ہو گی ۔ معمر بیان کرتے ہیں: حسن بصری نے ایسے شخص کے بارے میں رخصت دی ہے جو بڑی عمر میں اسلام قبول کرتا ہے اور اگر وہ ختنہ کرے تو اُسے اپنی صحت کی خرابی کا اندیشہ ہو تو اُسے یہ رخصت ہے کہ وہ ختنہ نہ کروائے اور حسن بصری ایسے شخص کے ذبیحہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔
«لَا بَأْسَ بِذَبِيحَتِهِ، وَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ، وَتُقْبَلُ صَلَاتُهُ» ← مَعْمَرٌ: فَسَأَلْتُ عَنْهُ حَمَّادًا ← «لَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُ، وَلَا تُقْبَلُ صَلَاتُهُ»، ← كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَكْرَهُ ذَبِيحَةَ الْأَغَرَلِ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of the sacrifice of the lower, the captive, the dumb, and the Negro · Hadith 8562
