مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ هَلْ يُقَرِّدُ الْمُحْرِمُ بَعِيرَهُ؟ · حديث 8406
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: كُنْتُ جَزَّارًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسْ - وَقَدْ أَحْرَمْتُ - «قُمْ فَقَرِّدْ هَذَا الْبَعِيرَ»، فَقُلْتُ: إِنِّي مُحْرِمٌ فَلَمَّا أَتَى السُّقْيَا قَالَ: «قُمْ فَانْحَرْ هَذِهِ الْجَزُورَ»، فَنَحَرْتُهَا، فَقَالَ: «لَا أُمَّ لَكَ، كَمْ تَرَاكَ قَتَلْتَ فِيهَا مِنْ قُرَادٍ، وَمِنْ حَلَمَةٍ» قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: " وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: وَحَمْنَانَةٍ، وَهُوَ الْقُرَادُ الصَّغِيرُ "
8406 – عکرمہ بیان کرتے ہیں: میں قصاب تھا حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: تم اُٹھو اور ا س اونٹ کی جوئیں نکال دو! میں اُس وقت احرام باندھ چکا تھا اس لیے میں نے عرض کی : میں احرام باندھ چکا ہوں! جب حضرت عبداللہ بن عباس سقیا کے مقام پر پہنچے تو اُنہوں نے فرمایا: تم اُٹھو اور اس اونٹ کو قربان کر دو ! میں نے اُسے قربان کر دیا تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: تمہاری ماں نہ رہے! تم جوؤں کو مارنے پر خود پر کتنا سمجھتے تھے ۔
عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter Does the Muharram sing its camel? · Hadith 8406
