مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ وَذَبْحِهِ وَالتَّرَبُّصِ بِهِ · حديث 8370
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ «كُرِهَ أَنْ يُرْسِلَ الرَّجُلُ كِلَابَهُ وَهُوَ فِي الْحَرَمِ عَلَى صَيْدٍ فِي الْحِلِّ، فَإِنْ فَعَلَ فَقُتِلْنَ فَعَلَيْهِ غُرْمُهُ وَافِيًا»، قَالَ عَطَاءٌ: «وَإِنْ سَرَّحْتَ كِلَابَكَ فِي الْحِلِّ فَقُتِلْنَ فِي الْحَرَمِ فَلَا غُرْمَ عَلَيْكَ، وَلَا تَأْكُلْهُ»، فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخَذْتُهُ فِي الْحِلِّ ثُمَّ دَخَلْتُ فِي الْحَرَمِ فَأَدْرَكْتُهُ حَيًّا؟ قَالَ: «دَعْهُ لَيْسَ لَكَ» قَالَ: قَتَلْتُهُ فِي الْحَرَمِ؟ قَالَ: «لَيْسَ لَكَ لَا تَأْكُلْهُ أَيْضًا»
8370 - ابن جریح نے عطا ء کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ بات مکروہ قرار دی گئی ہے کہ آدمی جب حرم کی حدود میں موجود ہو تو وہ حرم کی حدود سے باہر موجود کسی شکار پر اپنے کتے چھوڑ ے اگر وہ ایسا کر تا ہے اور شکار مارا جاتا ہے تو اُس شخص پر پوراے تاوان کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ عطا ء فرماتے ہیں: اگر تم حرم کی حدود سے باہر اپنے کتے کو چھوڑتے ہو اور شکار حرم کی حدود کے اند مارا جاتا ہے تو تم پر تاوان کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی لیکن تم اُس شکار کو نہیں کھاؤ گے ۔ میں نے اُن سے کہا: اگر وہ حرم کی حدود سے باہر اُسے پکڑ لیتا ہے اور پھر حرم کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ شکار اُس وقت زندہ ہوتا ہے ؟ تو اُنہوں نے فرمایا: تم اُسے چھوڑ دو تمہیں اپسے کھانے کا حق نہیں ہے ۔
عَطَاءٍ «كُرِهَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Fishing gate, its slaughtering, and lying in wait for it · Hadith 8370
