مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ الْمُحْرِمُ مِنْ أَكْلِ الصَّيْدِ · حديث 8322
عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصِّعْبِ بْنِ جُثَامَةَ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ»
حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت صعب بن جثامہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ میرے پاس سے گزرے میں اُس وقت ابواء کے مقام پر موجود تھا میں نے آپ کی خدمت میں زیبرے کا گوشت پیش کیا تو آپ نے وہ مجھے واپس کر دیا جب آپ نے میرے چہرے پر نا پسندیدگی کا نشان دیکھا تو ارشاد فرمایا: ہم نے یہ تمہیں واپس نہیں کرنا تھا لیکن ہم احرام کی حالت میں ہیں ۔
إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ. ← بِالْأَبْوَاءِ فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter on what is forbidden from eating fishing · Hadith 8322
