مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الْقُمَّلِ · حديث 8262
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، سُئِلَ عَنِ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الْقَمْلَةَ؟ فَقَالَ: «أَيَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَهُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْقَمْلَةِ؟» فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا قَتَلَتْ قَمْلَةً وَهِيَ مُحْرِمَةٌ، فَمَا كفَّارَتُهَا؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «مَا نَعْلَمُ الْقَمْلَةَ مِنَ الصَّيْدِ» فَأَعَادَتْ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: «شَاةٌ خَيْرٌ مِنْ قَمْلَةٍ، وَنَظَرَ إِلَيَّ لِكَيْ أَشْهَدَ مَعَهُ»، فَقُلْتُ: «أَجَلْ شَاةٌ خَيْرٌ مِنْ قَمْلَةٍ»
8262- ابو مجلز بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر سے احرام والے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو جُوں کو مار دیتا ہے ۔ تو اُنہوں نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو قتل کر دیتا ہے اور پھر جُوں کے بارے میں مسئلہ دریافت کرنے آجاتا ہے ۔ پھر ا یک خاتون اُن کے پاس آئی اور بولی : اُس نے احرام کی حالت میں ایک جُوں کو مار دیا تھا تو اُس کا کفارہ کیا ہو گا ؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: ہمارے علم کے مطابق جُوں شکار شمار نہیں ہوتی ۔ اُس عورت نے اپنا سوال دہرایا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنا جواب دہرایا اُس عورت نے تیسری مرتبہ سوال دہرایا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: ایک بکری ایک جُوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ۔ پھر اُنہوں نے میری طرف دیکھا تاکہ میں اُن کے حق میں گواہی دو تو میں نے کہا: جی ہاں! بکری جُوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ۔
مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ، ← ابْنُ عُمَرَ: «مَا نَعْلَمُ الْقَمْلَةَ مِنَ الصَّيْدِ» فَأَعَادَتْ، ← إِنَّهَا قَتَلَتْ قَمْلَةً وَهِيَ مُحْرِمَةٌ، فَمَا كفَّارَتُهَا؟ ← الْقَمْلَةِ؟» فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، ← «أَيَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَهُوَ يَسْأَلُ ← الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الْقَمْلَةَ ← أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، سُئِلَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ التَّيْمِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Lice section · Hadith 8262
