مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ · حديث 7843
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟»، قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمُ نَجَّا اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ فِيهِ آلَ فِرْعَوْنَ قَالَ: فَصَامَهُ شُكْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَنَا أَوْلَى بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ مِنْكُمْ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ»
7843 – سعید بن جبیر کے صاحبزادے نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس کا بیان نقل کیا ہے : نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورا ء کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اس کی کیا وجہ ہے ؟ اُنہوں نے بتایا یہ ایک عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو نجات عطا ء کی تھی اور اس دن میں آل فرعون کو ڈبو دیا تھا تو حضرت ابو موسیٰ نے شکر کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم تمہارے مقابلہ میں حضرت ابو موسیٰ کے زیادہ قریب ہیں اور اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں ۔ تو نبی اکرمﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور آپ نے یہ روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا ۔
أَوْلَى بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ مِنْكُمْ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ» ← النَّبِيِّ ← فَصَامَهُ شُكْرًا، ← هَذَا يَوْمٌ عَظِيمُ نَجَّا اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ فِيهِ آلَ فِرْعَوْنَ ← «مَا هَذَا؟» ← قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← معمر وابن عيينة ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 7843
