مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ تَأْخِيرِ السُّحُورِ · حديث 7605
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَحِّرْنَا يَا أَنَسُ إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَأَطْعِمْنِي شَيْئًا»، فَجِئْتُهُ بِتَمْرٍ، وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ: «يَا أَنَسُ انْظُرْ إِنْسَانًا يَأْكُلُ مَعِي» فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي شَرِبْتُ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَتَسَحَّرَ مَعَهُ»، ثُمَّ صَلَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، " وَكَانَ مَعْمَرٌ يُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَيُسْفِرُ حَتَّى يَقُولَ الْجَاهِلُ: مَا لَهُ صَوْمٌ "
حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اے انس ! ہمارے لیے سحری تیار کرو اور ایک برتن میں پانی لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا یہ حضر ت بلال کے اذان دینے کی بات ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے انس! تم اس بات کا جائزہ لو کہ کوئی شخص مل جائے جو میرے ساتھ کھانہ کھائے ۔ تو میں نے حضرت زید بن ثابت کو بلا لیا اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں تو ستو کا مشروب پی چکا ہوں اور میں روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں بھی روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ پھر حضرت زید بن ثابت نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ سحری کی پھر نبی اکرمﷺ نے دو رکعت ادا کی پھر آپ تشریف لے گئے نماز کھڑی ہو گئی ۔
أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Chapter of Delaying Suhoor · Hadith 7605
