مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْمَرْأَةِ تُمَلَّكُ أَمْرَهَا فَرَدَّتْهُ، هَلْ تُسْتَحْلَفُ؟ · حديث 11896
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قال: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، يُخْبِرُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: كَانَتْ حَيَّةُ عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَقُرَيْبَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ فَأَغَارَهُمَا، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: مَا أَنْكَحَنَا إِلَّا عَائِشَةَ، وَلَكِنَّ الزَّوْجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَمَا يَقْهَرُنَا إِلَّا بِعَائِشَةَ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ أَخَاهَا أَنْ يَجْعَلَ أَمْرَ قُرَيْبَةَ إِلَى قُرَيْبَةَ، فَفَعَلَ، فَبَعَثَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لِأُخْتِهَا: أَمَّا عَائِشَةُ فَقَدْ قَضَتْ مُدَّتَهَا، وَأَمَّا أَنْتِ فَأَحْدِثِي مِنْ أَمْرِكِ مَا شِئْتِ، فَقَالَتْ: فَإِنِّي أَرُدُّ أَمْرِي عَلَى زَوْجِي، فَلَمْ يُحْسَبْ شَيْئًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَذَكَرَ الْقَاسِمُ أَنَّهُ يُرْوَى رَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا وَاحِدَةً عَنْ عَلِيٍّ "
11896 - قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: حیہ نامی خاتون اور قریبہ بنت ابو اُمیہ یہ دونو عبدالرحمٰن بن ابو بکر کی بیویاں تھیں اُنہوں نے اُن دونوں پر غصہ کا اظہار کیا تو سیدہ اُم سلمہ نے کہا کہ ہمارے ساتھ یہ رشتہ عائشہ نے کروایا تھا لیکن شوہر عبدالرحمٰن ہے اور وہ صرف عائشہ کی وجہ سے ہے تو سیدہ عائشہ نے اپنے بھائی سے یہ کہا کہ وہ قریب نامی اہلیہ کو علیحدگی کا اختیار دےد یں تواُنہوں نے ایسا ہی کیا سیدہ عائشہ نے یہ پیغام سیدہ اُم سلمہ کو بھجوایا تو سیدہ اُم سلمہ نے اپنی بہن سے کہا : میں اپنے اختیار کو اپنے شوہر کو واپس کرتی ہوں۔
أُمُّ سَلَمَةَ: مَا أَنْكَحَنَا إِلَّا عَائِشَةَ، ← قُرَيْبَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ فَأَغَارَهُمَا، ← كَانَتْ حَيَّةُ عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، يُخْبِرُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The door of the woman is her woman's ownership and her individuality, should she take an oath? · Hadith 11896
