مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ {وَاهْجُرُوهُنَّ} [النساء: 34] · حديث 11872
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَرَّرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لَهُ: «مَا فَعَلَتْ تَهَلُّلُ؟ عَهْدِي بِهَا لَسِنَةً» قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ لَقَدْ خَرَجْتُ وَمَا أُكَلِّمُهَا قَالَ: «فَعَجِّلِ الْمَسِيرَ قَبْلَ أَنْ تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَإِنْ مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ، وَأَنْتَ خَاطِبٌ»
11872 - یزید بن اصم بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عبا س نے اُن سے دریافت کیا : تمہاری بیوی کا کیا حال ہے جب میری اس سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ کچھ زبان دراز تھی اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! جب میں نکلا تھا تو میں نے اُس عورت کے ساتھ بات بھی نہیں کی تھی تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: چار ماہ گزرنے سے پہلے ہی اُس کے پاس چلے جانا کیونکہ اگر چار ماہ گزر گئے تو یہ ایک بائنہ طلاق شمار ہو گی اور پھر تمہیں نئے سرے سے رشتہ کا پیغام دینا ہو گا ۔
أَجَلْ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَرَجْتُ وَمَا أُكَلِّمُهَا ← لَهُ: «مَا فَعَلَتْ تَهَلُّلُ؟ عَهْدِي بِهَا لَسِنَةً» ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرَّرٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Bab (and forsake them) [An-Nisa: 34] · Hadith 11872
