مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يَجْهَلُ الْإِيلَاءَ حَتَّى يُصِيبَ امْرَأَتَهُ أَوْ لَا يُصِيبَ · حديث 11668
قَالَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: وَكَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْمُجَالِدِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ النَّخَعِ كَانَ غَائِبًا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِنِّي خَرَجْتُ وَأَنَا غَضْبَانُ عَلَى امْرَأَتِي، وَقَدِمْتُ وَأَنَا رَاضٍ فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا، وَكُنْتُ حَلَفْتُ أَنْ لَا أَقْرَبَهَا، فَذَهَبَ الْأَشْهُرُ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: هَذَا الْإِيلَاءُ، اذْهَبْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «وَقَعْتَ عَلَيْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا لَا أَعْلَمُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «قَدْ بَانَتْ مِنْكَ بِتَطْلِيقَةٍ بَائِنَةٍ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ إِلَّا أَنْ تَشَاءَ، اذْهَبْ أَخْبِرْهَا بِذَلِكَ، ثُمَّ اخْطُبْهَا إِنْ شَاءَتْ»، فَأَتَاهَا، فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، فَقَالَتْ: فَإِنِّي أَرْجِعُ إِلَى زَوْجِي
عامر شعبی بیان کرتے ہیں: نخع سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا جو پہلے وہ وہاں موجود نہیں تھا اُس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا : جب میں یہاں سے گیا تھا تو میں اپنی بیوی پر غصہ تھا اور جب میں آیا ہوں تو میں اُس سےس راضہ ہوں میں نے اُن سے صحبت کر لی جبکہ میں پہلے قسم اُٹھائی تھی کہ میں اُس کے قریب نہیں جاؤں گا اور درمیان میں ھ کئی ماہ گزر گئے ۔ اُس شخص کے ساتھیوں سے اُس سے کہا: تو یہ ایلا ء ہو گیا ہے تم حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس جاؤ اور اُس سے اس بارے میں دریافت کرو ۔ وہ حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس آیا اور اُن سے اس بارے میں دریافت کیا تو حضرت عبداللہ نے دریافت کیا: کیا تم نے اُس عورت کے ساتھ صحبت کی لی ہے ؟ اُس نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے لا علمی میں ایسا کر لیا ہے تو حضرت عبداللہ نے فرمایا: عورت ایک بائنہ طلاق کے ذریعہ تم سے جدا ہو چکی ہے اور اب تمہیں اُس کے ساتھ رجوع کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔
إِلَيَّ- ← عَبْدِ الرَّزَّاقِ: وَكَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْمُجَالِدِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › A man’s gate is ignorant of the godliness, until it affects his wife or not · Hadith 11668
