مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ يُقِرُّ عِنْدَ نَفَرٍ شَتَّى بِالطَّلَاقِ · حديث 11260
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ الثَّوْرِيِّ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: طَلَّقْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ لَقِيَ آخَرَ، فَقَالَ: طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ لَقِيَ آخَرَ، فَقَالَ: طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ قَالَ: نَعَمْ، قَالَا: «نِيَّتُهُ فِي ذَلِكَ»
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں: میں نے امام شعبی اور عبداللہ بن معقل سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر ایک شخص اُس سے ملتا ہے اور دریافت کرتا ہے : کیا تم نے طلاق دے دی؟ وہ جواب دیتا ہے : جی ہاں! پھر دوسرا شخص ملتا ہے اور دریافت کرتا ہے : کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : جی ہاں! پھر تیسرا شخص اُس سے ملتا ہے اور دریافت کرتا ہے : کیا تم نے طلاق دے دی ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : جی ہاں ! تو ان دونوں حضرات نے جواب دیا کہ اس بارے میں اُس کی کا اعتبار ہو گا ۔
«نِيَّتُهُ فِي ذَلِكَ» ← نَعَمْ ← نَعَمْ، ثُمَّ لَقِيَ آخَرَ، فَقَالَ: طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ ← نَعَمْ، ثُمَّ لَقِيَ آخَرَ، فَقَالَ: طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ ← رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: طَلَّقْتَ؟ ← سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Bab is recognized at a group of various divorces · Hadith 11260
