مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ: مَا تَتَّقِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا · حديث 12148
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: «وَإِنْ تُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ جَارِيَةٌ قَدْ بَلَغَتِ الرِّجَالَ، وَإِنْ كَانَتْ لَمْ تَحِضْ، فَعَلَيْهَا مَا عَلَى الَّتِي قَدْ حَاضَتْ مِنَ الْمُوَاعَدَةِ، وَالزِّينَةِ، وَالطِّيبِ، وَإِنْ كَانَتْ جَارِيَةً صَغِيرَةً لَمْ تَبْلُغْ، فَلَا يَضِيرُ أَهْلَهَا أَنْ يُزَيِّنُوهَا، أَوْ يُطَيِّبُوهَا، إِنْ شَاءُوا»
12148 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء فرماتے ہیں: اگر شوہر کے انتقال کے وقت بیوی ایسی لڑکی تھی جو بڑی لگتی ہے اگرچہ اُسے حیض آنا شروع نہیں ہوا تھا تو اُس پر بھی وہی چیزیں لازم ہوں گی جو حیض والی عورت پر لازم ہوتی ہے وہ زیب و زینت اختیار نہیں کرے گی خوشبو نہیں لگائے گی لیکن اگر وہ کمسن بچی تھی جو ابھی بالغ نہیں ہوئی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اُس کے گھر والے اُسے آراستہ کر دیتے ہیں وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter: What a fear of the deceased · Hadith 12148
