مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ: مَا تَتَّقِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا · حديث 12112
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ: «تُنْهَى الْمُتَوَفَّى عَنْهَا عَنِ الطِّيبِ وَالزِّينَةِ، وَلَا تَكْتَحِلُ بِإِثْمِدٍ، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ زِينَةٌ، وَأَنَّ فِيهِ مِسْكًا، وَلَا بِحُضُضٍ، فَإِنَّ فِيهِ زَعَمُوا وَرْسًا، وَلَكِنْ بِصَبْرٍ إِنْ شَاءَتْ»
12112 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء نے یہ بات بیان کی ہے: بیوہ عورت کو خوشبو لگانے اور زیب و زینت اختیا ر کرنے سے منع کیا گیا ہے وہ اثمد سرمہ نہین لگائے گی کیونکہ یہ بھی زیب و زینت میں شمار ہو تا ہے اور اس میں مشک پائی جاتی ہے اور وہ حضض بھی نہیں لگائے گی کیونکہ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس میں ورس پایا جاتا ہے البتہ اگر وہ چاہے تو صبر کا سرمہ لگا سکتی ہے ۔
عَطَاءٌ: «تُنْهَى الْمُتَوَفَّى عَنْهَا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter: What a fear of the deceased · Hadith 12112
