مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْوَلَاءِ ‹ بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ · حديث 16318
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ [ص:52] عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ مَمْلُوكًا، كَانَ يُقَالُ لَهُ كَيْسَانُ فَسَمَّى نَفْسَهُ قَيْسًا وَادَّعَى إِلَى مَوَالِيهِ وَلَحِقَ بِالْكُوفَةِ فَرَكِبَ أَبُوهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِي، ثُمَّ رَغِبَ عَنِّي وَادَّعَى إِلَى مَوَالِيهِ وَمَوْلَايَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّا كُنَّا نَقْرَأُ: لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ، فَقَالَ زَيْدٌ: بَلَى، فَقَالَ عُمَرُ: «لَعَلَّ اللَّهَ انْطَلِقْ فَافْرُقِ ابْنَكَ إِلَى بَعِيرِكَ ثُمَّ انْطَلِقْ بِهِ فَاضْرِبْ بَعِيرَكَ سَوْطًا، وَابْنَكَ سَوْطًا حَتَّى تَأْتِيَ أَهْلَكَ»
16318 - عدی بن عدی نے اپنے والد یا شاید اپنے چچا کے حوالےسے یہ بات نقل کی ہے : ایک غلام تھا جس کا نام کیسان تھا اس نے اپنا نام قیس رکھا اور اپنے آقاؤں کی طرف اپنی نسبت کی اور پھر وہ کوفہ چلا گیا اس کا باپ سوا ر ہو کر حضرت عمرت بن خطاب کے پاس آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین! وہ میرے بچھونے پر پیدا ہوااور پھر اس نے مجھ سے منہ موڑ لیا اور اپنی نسبت اپنے آقاؤں کی طرف کر لی جو میرے بھی آقا ہیں تو حضرت عمر نے فرمایا: اے زید بن ثابت ! کیا آپ یہ بات نہیں جانتے ؟ کہ ہم یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے : کہ تم لوگ اپنے باپ دادا سے منہ نہ مورو کیونکہ یہ تمہارا کفر شمار ہو گا ۔
عَمِّہٖ ← أَبِيهِ أَوْ ← عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 16318
