مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْوَلَاءِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يَلِدُ الْأَحْرَارَ وَهُوَ عَبْدٌ ثُمَّ يُعْتَقُ · حديث 16282
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ قَدِمَ أَرْضًا لَهُ بِخَيْبَرَ فَإِذَا بِفِتْيَانٍ فِي أَرْضِهِ فَقَالَ: «مَنْ هَؤُلَاءِ؟» فَقِيلَ لَهُ: أُمُّهُمْ مَوْلَاةٌ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَبُوهُمْ عَبْدٌ فَابْتَاعَ أَبَاهُمْ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ اخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ فَقَضَى بِوَلَائِهِمْ لِلزُّبَيْرِ قَالَ: «فَبَنَوُهُمْ أَحْيَاءٌ الْيَوْمَ»
16282 - عمر بن عبداللہ بن عروہ بیان کرتے ہیں: حضرت زبیر خیبر میں موجود زمین پر گئے تو ان کی زمین میں کچھ بچے موجود تھے انہوں نے دریافت کیا: یہ کس کے ہیں؟ انہیں بتایا گیا: ان کی ماں حضرت رافع بن خدیج کی کنیز ہے اور ان کا باپ ایک غلام ہے حضرت زبیر نے ان کے باپ کو خرید کر اسے آزاد کر دیا پھر ان دونوں حضرات نے حضرت عثمان کے سامنے مقدمہ پیش کیا تو حضرت عثمان نے یہ فیصلہ دیا کہ ان لڑکوں کی ولاء حضرت زبیر وک حاصل ہو گی راوی بیان کرتے ہیں: وہ بچے آج بھی زندہ ہیں ۔
الزُّبَيْرِ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Allegiance › A man’s gate gives birth to the free, and he is a slave, then he is freed · Hadith 16282
