مصنف عبدالرزاق · كِتَابٌ الْأَيْمَانُ وَالنُّذُورُ ‹ بَابٌ: مَنْ قَالَ: مَالِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ · حديث 16015
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: ابْتَاعَ طَاوُسٌ جَارِيَةً فَوَضَعَهَا عِنْدِي سَنَةً، ثُمَّ مَرَّ بِي فَدَعَا بِهَا لِيَنْطَلِقَ بِهَا، فَقَالَ لِي وَلِآخَرَ مَعِي: «إِنَّ ابْنَ يُوسُفَ لَا تُذْكَرُ لَهُ جَارِيَةٌ رَائِعَةٌ إِلَّا أَرْسَلَ إِلَيْهَا، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمَا أَنِّي قَدْ أَعْتَقْتُهَا عَنْ ظَهْرِ لِسَانِي، لَيْسَ مِنْ نَفْسِي أَقُولُهُ لِأَعْتَلَّ بِهِ إِنْ يَبْعَثَ إِلَيْهَا مُحَمَّدٌ» وَسَمِعْتُ زَمْعَةَ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ الْأَشْعَرِيُّ، ثُمَّ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ
ابن جریح بیان کرتے ہیں: محمد اشعری کے بارے میں مجھے یہ بات بتائی گئی ہے وہ بیان کرتے ہیں طاؤس نے ایک کنیز خریدی اور میرے ہاں ایک سال کے لئے چھوڑ دی اور پھر ان کا گزر میرے پاس سے ہوا تو انہوں نے اس کنیز کو بلوایا تاکہ اسے ساتھ لے کر جائیں تو انہوں نے مجھ سے اور میرے ساتھ ایک اور شخص سے کہا: ابن یوسف کا یہ معاملہ ہے کہ جب بھی کسی خؤبصورت کنیز کا ذکر کی ا جائے تو وہ اسے بلوا لیتا ہے ۔
لِي وَلِآخَرَ مَعِي: ← ابْتَاعَ طَاوُسٌ جَارِيَةً فَوَضَعَهَا عِنْدِي ← مُحَمَّدٍ الأَشْعَرِيِّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Faith and Vow › Chapter: Whoever said: My money for the sake of God · Hadith 16015
