مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ · حديث 4489
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: دَعَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَسَأَلَهُمَا عَنِ الْمُسَافِرِ فِي رَمَضَانَ: أَيَصُومُ أَمْ يُفْطِرُ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: إِنِّي إِنَّمَا أَخَذْتُ عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ سَالِمٌ: وَإِنَّمَا أَخَذْتُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: فَلَمَّا امْتَرَيَا وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، قَالَ عُمَرُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ أَصُومُهُ فِي الْيُسْرِ، وَأُفْطِرُهُ فِي الْعُسْرِ»
4489 - ایوب بیان کرتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز نے سالم بن عبداللہ اور عروہ بن زبیر کو بلایا اور اُن دونوں سے مسافر کے رمضان میں روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا : کیا وہ روزہ رکھے گا یا روزہ ترک کر دے گا ؟ تو عروہ نے کہا: میں نے تو یہ حکم سیدہ عائشہ سے حاصل کیا ہے جبکہ سالم نت یہ کہا ہے کہ میں نے یہ حکم حضرت عبداللہ بن عمر سے حاصل کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب ان دونوںکی بحث شروع ہوئی اور ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئی تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اے اللہ ! تو مغفرت کر دے ! اے اللہ! تو مغفرت کر دے ! اگر آسانی ہوئی تو میں روزہ رکھ لوں گا اور اگر آسانی نہ ہوئی تو میں روزہ نہیں رکھوں گا ۔
فَلَمَّا امْتَرَيَا وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمٌ: وَإِنَّمَا أَخَذْتُ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ: إِنِّي إِنَّمَا أَخَذْتُ ← الْمُسَافِرِ فِي رَمَضَانَ: أَيَصُومُ أَمْ يُفْطِرُ؟ ← عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَسَأَلَهُمَا ← دَعَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on fasting when traveling · Hadith 4489
