مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ · حديث 4477
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الصَّلَاةِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْطِرْ» قَالَ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى الصَّوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ أَقْوَى أَمِ اللَّهُ؟ إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ بِإِفْطَارِ الصَّائِمِ عَلَى مَرْضَى أُمَّتِي وَمُسَافِرِيهِمْ، أَفَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَلَى أَحَدِكُمْ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ يَظَلُّ يَرُدُّهَا عَلَيْهِ؟»
4477 - حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرمﷺ سے رمضان کے مہینہ میں سفر کے دورا ن نماز پڑھنے اور روزہ رکنے کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ت روزہ نہ رکھو ! اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں ! نبی اکرمﷺ نے اُس سے فرمایا: تم زیادہ قوت رکھتے ہو؟ یا اللہ تعالیٰ؟ اللہ تعالیٰ نے میری اُمت کے بیماروں اور اُس کے مسافروں کو روزہ نہ رکھنے کا صدقہ دیا ہے تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا ؟ کہ ہ کس کو صدقہ دے اور وہ دوسرا شخص اُس کا دیا ہوا صدقہ اُسے واپس کر دے ۔
ابْنِ عُمَرَ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on fasting when traveling · Hadith 4477
