مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ · حديث 4237
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالُوا: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ فَقَالُوا: تَأْتِي عَلَيْهِمُ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ الْآيَاتِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: 102] قَالَ: " فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذُوا السِّلَاحَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ قَالَ: وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا، جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسُوا جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ ". قَالَ: «فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ، مَرَّةً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّةً فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ». عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
4237 – حضرت ابو عیاش زرقی بیان کرتے ہیں: ہم عسفان میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہمارا سامنا مشرکین سے ہوا جن کے سردار خالد بن ولید تھے مشرکین ہمارے اور قبیلہ کے درمیان موجود تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین نے کہا: یہ لوگ ایک ایسی صورت حال میں ہیں کہ اگر ہم ان پر حملہ کر دیں تو مناسب رہے گا ۔ اُن لوگوں نے کہا: تم ان پر اُس وقت حملہ کرنا جب یہ نماز ادا کر رہے ہوں گے جو ان کے نزدیک ان کے بال بچوں اور ان کی جانوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو ظہر اور عصر کے درمیان حضرت جبرائیل یہ آیات لے کر نازل ہوئے : جب تم اُن کے درمیان موجود ہو تو تم اُن کے لیے نماز قائم کرو ۔ راوی بیان کرتے ہیں: نماز کا وقت ہو گیا تو نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو ہدایت کی اُنہوں نے ہتھیار اُٹھالیے اور نبی اکرمﷺ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ رکوع میں گئے تو آپ کے ساتھ ہم سب بھی رکوع میں چلے گئے پھر نبی اکرمﷺ نے سر اُٹھایا تو ہم سب نے بھی سر اُٹھایا پھر نبی اکرمﷺ نے اُس صف کے ہمراہ سجدہ کیا جو صف آپ کے قریب موجود تھی جبکہ دوسرے لوگ کھڑے ہوئے ان لوگوں کی حفاظت کرتے رہے جب اُن لوگوں نے سجدہ کر لیا اور کھڑے ہو گئے تو پیچھے والے لوگ بیٹھے اور اُنہوں نے اپنی جگہ پر رہتے ہوئے سجد ہ کیا پھر پیچھے والے لوگ آگے والی صف کی جگہ آگئے اور آگے والی صف کے لوگ پیچھئ والی صف میں چلے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ رکو ع میں گئے تو آپ کے ساتھ سب لوگ رکوع میں گئے پھر نبی اکرمﷺ نے رکوع سے سر اُٹھایا تو سب لوگوں نے سر اُٹھایا پھر نبی اکرمﷺ نے اُس صف سمیت سجدہ کیا جو آپ کے قریب تھے اور دوسری صف کے لوگ کھڑے رہ کر حفاظت کرتے رہے جب یہ لوگ بیٹھے تو د وسری صف کے لوگ بھی بیٹھے اور اُنہوں نے سجدہ کیا پھر نبی اکرمﷺ نے ان سب لوگوں سمیت سلام پھیر کر نماز کو ختم کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیںل نبی اکرمﷺ نے یہ دو مرتبہ ادا کی ہے ایک مرتبہ عسفان میں اور ایک مرتبہ بنو سلیم کی سر زمین میں ۔
أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to fear prayer · Hadith 4237
