مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّسْبِيحِ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ · حديث 4067
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: «التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، إِسْ إِسْ فِي الصَّلَاةِ» قَالَ عَطَاءٌ: وَتَكَلَّمَ أَبُو هُرَيْرَةَ بِإِسٍّ إِسٍّ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي الصَّلَاةِ: «كَذَلِكَ مِنْ قَوْلِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ»، وَأَحَبُّ إِلَى عَطَاءٍ أَنْ يُسَبِّحْنَ مِنَ التَّصْفِيقِ مِنْ إِسٍّ إِسٍّ، قَالَ عَطَاءٌ: وَصَفَّقَ أَبُو هُرَيْرَةَ بِيَدَيْهِ
4067 - عطا ء بیان کرتے ہیں: اُنہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لیے ہے اور تالی مارنے کا حکم عورتوں کے لیے ہے ۔ نماز کے دورا ن اش اش کیا جا سکتا ہے ۔ عطا ء بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ کے دوران اش اش کہہ دیتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ نماز کے بارے میں اسی طرح فرماتے تھے مردوں اور خواتین کے لیے یہی کہنے کا حکم ہے اور عطا ء کے نزدیک یہ بات پسندیدہ ہے کہ خواتین تالی مارنے کی بجائے یا اش اش کہنے کی بجائے سبحان اللہ کہہ دیں ۔ عطا ء بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ دونوں ہاتھوں کے ذریعہ تالی مارتے تھے ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of praise to men, and applause to women · Hadith 4067
