مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْإِمَامِ يُؤْتَى فِي مَسْجِدِهِ · حديث 3851
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ مُسَافِرٌ مَرَّ بِأَهْلِ مَاءٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَدَّمُوهُ، لَيْسَ لَهُمْ إِمَامٌ أَيَؤُمُّهُمْ؟ قَالَ: «لَا بَأْسَ بِذَلِكَ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں : میں نے عطا ء سے دریافت کیا: ایک شخص جو مسافر ہے وہ کسی پانی کی جگہ کے پاس سے گزرتا ہے جہاں لوگ رہتے ہیں اسی دوران نماز کا وقت ہو جاتا ہے وہ لوگ اُسے آگے کر دیتے ہیں اُس لوگوں کا کوئی مخصوص امام نہیں ہے تو کیا وہ مسافر اُن لوگوں کی امامت کر سکتا ہے ؟ عطا ء نے جواب دیا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of the imam is to be performed in his mosque · Hadith 3851
