مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ مَا يُطَوَّلُ مِنْهَا وَمَا يُحْذَفُ · حديث 3707
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ فَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي قَالَ: فَسَأَلَهُ عُمَرُ، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ» قَالَ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ قَالَ الثَّوْرِيُّ: قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ، أَوْ غَيْرُهُ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْسٍ لِسَعْدٍ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَا تَنْفُرُ فِي السَّرِيَّةِ، وَلَا تَعْدِلُ فِي الرَّعِيَّةِ، وَلَا يَقْسِمُ فِي السَّوِيَّةِ، فَقَالَ سَعْدٌ: «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذِبَ فَأَعْمِ بَصَرَهُ، وَعَرِّضْهُ لِلْفِتَنِ، وَأَطِلْ فَقْرَهُ»، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ
3707 - حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں: اہل کوفہ حضرت عمر کے سامنے حضرت سعد کو شکایت کی اُنہوں نے یہ کہا : یہ نماز تھیک طرح سے نہیں پڑھاتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عمر نے حضرت سعد سے اس بارے میں دریافت کیا تو حضرت سعد نے جواب دیا : میں ان لوگوں کو نبی اکرمﷺ کے طریقہ کے مطابق نماز پڑھاتا ہوں میں پہلی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات مختصر ادا کرتا ہوں ۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: اے ابو اسحاق! آپ کے بارے میں یہی گمان تھا ۔ سفیان ثوری بیان کرتے ہیں: عبدالملک یا شاید کسی اور شخص نے یہ بیان کی ہے : بنو عبس سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے حضرت سعد سے کہا : اے اللہ ! اگر تو یہ بات جھوٹی ہے تو اسے نابینا کر دے اور اسے آزمائشوں کا شکار کر دینا اس کی غربت کو طویل کر دینا ۔ راوی بیام کرتے ہیں: میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ یہ کہتا تھا مجھے حضرت سعد کی بد دعا ء لگ گئی ہے ۔
جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The chapter on prayer: What is lengthened from it and what is omitted · Hadith 3707
