مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 4909
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، أَوْ غَيْرِهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دَعَوْتَ عَلَى مُضَرَ بِالسَّنَةِ فَمَا يَغِطُّ لَهُمْ بَعِيرٌ، وَمَا يَصِيحُ لَهُمْ صَبِيٌّ قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيعًا، مُبَارَكًا مَرِيئًا، نَافِعًا طَبَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ» قَالَ: فَمَا مَضَى ذَلِكَ الْيَوْمُ حَتَّى مُطِرُوا، أَوْ مَا مَضَتْ سَابِعَةٌ حَتَّى أَعْطَنَ النَّاسُ بِالْعُشْبِ
4909 - سالم بن ابو الجعد بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کے سامنے کھڑا ہوا اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ نے مضر قبیلہ کے خلاف قحط سالی کی دعا کی تھی ! اب اُن کا کوئی اونٹ نہیں بچا اور کوئی بچہ رونے والا نہیں بچا ۔ راوی بیا ن کرتے ہیں: تو نبی اکرمﷺ منبر پر کھڑے ہوئے آپ نے دعا کی : اے اللہ! ہمیں ایسے بادل کے ذریعہ سیراب کر دے ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہو جلدی آنے والا ہو دیر سے آنے والا ہو نفع دینے والا ہو نقصان دینے والا ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں: : ابھی وہ دن نہیں گزرا تھا کہ بارش شروع ہو گئی ایک ہفتہ تک مسلسل ہوتی رہی یہاں تک کہ لوگوں کے کھیت سیراب ہو گئے ۔
قامَ رَجُلٌ إلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، أَوْ غَيْرِهِ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to redness · Hadith 4909
