مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَتَى تَرْكَعُ رَكْعَتَا الْفَجْرِ · حديث 4765
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: هُمَا الْفَجْرَانِ فَأَمَّا الْفَجْرُ الَّذِي يَسْطَعُ فِي السَّمَاءِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَا يُحِرِّمُ شَيْئًا، وَلَكِنَّ الْفَجْرَ الَّذِي يَنْتَشِرُ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ فَهُوَ الَّذِي يُحَرِّمُ "، فَقَالَ عَطَاءٌ: فَأَمَّا إِذَا سَطَعَ سُطُوعًا فِي السَّمَاءِ ـ وَسُطُوعُهُ أَنْ يَذْهَبَ فِي السَّمَاءِ طُولًا فَإِنَّهُ لَا يُحَرَّمُ لَهُ فِي الشَّرَابِ لِصِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ، وَلَا يَفُوتُ لَهُ حَجٌّ، وَلَكِنْ إِذَا انْتَشَرَ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ حَرُمَ الشَّرَابُ عَلَى الصَّوْمِ وَفَاتَ لَهُ الْحَجُّ وَقَالَ عُمَرُ: «الْفَجْرُ الَّذِي كَأَنَّهُ ذَهَبُ السِّرْحَانِ» يَقُولُ: «ذَلِكَ السَّاطِعُ فِي السَّمَاءِ»
4765 - عطا ء بیان کرتے ہیں: اُنہو ں نے حضرت عبداللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : صبح صادق دو قسم کی ہوتی ہے ایک وہ جو آسمان میں پھیلتی ہے وہ کوئی چیز نہیں ہوتی اور یہ کسی چیز کو حرام نہیں کرتی ۔ لیکن وہ فجر جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھیل جاتی ہے وہ ہے جو حرام قرار دیتی ہے ۔ عطا ء کہتے ہیں: جہاں تک آسمان میں پھیلنے والی روشنی کا تعلق ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آسمان میں لمبائی کی سمت میں پھیلے یہ روزے کے لیے کھانے یا پینے کو حوام قرار نہیں دیتی نماز کو حرام قرار نہیں دیتی اس کی وجہ سے فوت نہیں ہوتا لیکن جب یہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھیل جائے تو روزہ رکھنے والے کے لیے پینا حوام ہو جاتا ہے ایسے شخص جا حج فوت ہو جاتا ہے ۔ حضرت عمر فرماتے ہیں: ایک فجر یوں ہو تی ہے جس طرح سانپ کی دم ہو وہ یہ فرماتے ہیں: یہ آسمان میں لمبائی سمت میں پھیلتی ہے ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Door when the two kneeling at dawn · Hadith 4765
