مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الِاعْتِكَافِ ‹ بَابٌ: طِيبُ الْمَرْأَةِ ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا · حديث 8111
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ لَيْثٍ، أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ مُتَزَيِّنَةً أَذِنَ لَهَا زَوْجُهَا، فَأُخْبِرَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَطَلَبَهَا فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: هَذِهِ الْخَارِجَةُ، وَهَذَا لَمُرْسِلُهَا لَوْ قَدَرْتُ عَلَيْهِمَا لَشَتَّرْتُ بِهِمَا، ثُمَّ قَالَ: «تَخْرُجُ الْمَرْأَةُ إِلَى أَبِيهَا يَكِيدُ بِنَفْسِهِ وَإِلَى أَخِيهَا يَكِيدُ بِنَفْسِهِ، فَإِذَا خَرَجَتْ فَلْتَلْبَسْ مَعَاوِزَهَا، فَإِذَا رَجَعَتْ فَلْتَأْخُذْ زِينَتَهَا فِي بَيْتِهَا، وَلَتْتَزَيَّنْ لِزَوْجِهَا» قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: «يَعْنِي شَتَّرْتُ سَمَّعْتُ بِهِمَا وَالْمَعَاوِزُ خَلِقُ الثَّيَابِ»
8111 – لیث بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک عورت آراستہ ہو کر باہر نکلی اُس عورت کے شوہر نے اُسے اجازت دی تھی حضرت عمر کو اس بارے میں پتا چلا تو اُنہوں نے اُس عورت کو بلوایا لیکن وہ اُسے نہیں بلواسکے تو حضرت عمر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور بولے : یہ نکلنے والی عورت اور یہ اُسے بھیجنے والا مرد اگر میں ان دونوں پر قابو پا لوں تو میں ان دونوں کو سزا دوں گا ۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا: عورت اپنے باپ کی طرف جانے کے لیے نکلتی ہے جو قریب المرگ ہو اور اپنے بھائی کی طرف جانے کے لیے نکلتی ہے جو قریب المرگ ہو اور جب وہ عورت نکلے تو وہ اپنے پرانے پہن لے اور جب وہ واپس جائے تو اپنے گھر میں اپنی زیب و زینت کی چیزیں اختیار کرے اور اپنے شوہر کے لیے آراستہ ہو ۔
لَيْثٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 8111
