مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّسْلِيمِ · حديث 3124
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَيْفَ بَلَغَكَ كَانَ بَدْءُ السَّلَامِ؟ قَالَ: «لَا أَدْرِي غَيْرَ أَنَّ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّسْلِيمِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» قَالَ: «كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا يَرْفَعُونَ بِالتَّسْلِيمِ أَصْوَاتَهُمْ» قُلْتُ: فَيَنْصَرِفُونَ عَلَى تَسْلِيمِ التَّشَهُّدِ قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ كَانُوا يَقُولُونَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ يَقُومُونَ حَتَّى رَفَعَ عُمَرُ صَوْتَهُ "
- ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: اسلام کا آغاز کیسے ہوا تھا اس بارے میں آپ تک کوئی روایت پہنچی ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم ! تاہم یہ ہے سب سے پہلے بلند آواز میں سلام پھیرنے کا آغاز حضرت عمر بن خطاب نے کیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پہلے لوھ پست آواز میں سلام پھیرا کرنے تھے وہ بلند آواز میں سلام نہیں کرتے تھے ۔ میں نے دریافت کیا : کیا ہو لوگ تشہد کے بعد سلام پھیرتے تھے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! بلکہ وہ پست آواز میں یہ کہتے تھے : السلامو علیکم ! پھر اُٹھ جایا کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر نے بلند آواز میں سلام پھیرا۔
لاَ أَدْرِي، غَيْرَ أَنَّ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّسْلِيمِ: عُمَرُ بن الْخَطَّابِ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَيْفَ بَلَغَكَ كَانَ بَدْءُ السَّلاَمِ؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Section of surrender · Hadith 3124
