مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ · حديث 2898
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: هَلْ بَلَغَكَ مِنْ قَوْلٍ يُقَالَ فِي الرُّكُوعِ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَكَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ؟ قَالَ [ص:161]: " إِذَا لَمْ أَعْجَلْ وَلَمْ يَكُنْ مَعِي شَيْءٌ يَشْغَلُنِي فَإِنِّي أَقُولُ قَوْلًا إِذَا بَلَغْتَهُ فَهُوَ ذَلِكَ، أَقُولُ: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا ثَلَاثًا، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ثَلَاثًا، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ الْمَلِكَ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سَبَقَتْ رَحْمَةُ رَبِّي غَضَبَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ "، قُلْتُ: فَهَلْ بَلَغَكَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ شَيْئًا مِنْهُنَّ فِي الرُّكُوعِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَمَا تَتَّبِعُ فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» فَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَجَسَسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ وَسَاجِدٌ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» قَالَتْ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكِ لَفِي آخَرٍ قَالَ: " أَمَّا {سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا} [الإسراء: 108] فَأَتَّبِعُ بِهَا الَّتِي فِي سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَأَمَّا سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَأُعَظِّمُ بِهِمَا اللَّهَ، وَأَمَّا سُبْحَانَ الْمَلِكَ الْقُدُّوسِ " فَبَلَغَنِي، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ: " يَنْزِلُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَطْرَ اللَّيْلِ الْآخِرِ فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ: مَنْ [ص:162] يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ وَيَقُولُ الْمَلِكَ: سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ، حَتَّى إِذَا كَانَ الْفَجْرُ صَعِدَ الرَّبُّ، فَأَتَّبِعُ قَوْلَ الْمَلَكَ: سُبْحَانَ الْمَلِكَ الْقُدُّوسِ، وَأَمَّا سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ سَبَقَتْ رَحْمَةُ رَبِّي غَضَبَهُ " فَبَلَغَنِي " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ كَانَ كُلَّمَا مَرَّ قِسْمًا سَلَّمَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّمَاءَ السَّادِسَةَ قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: هَذَا مَلَكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَبَدَرَهُ الْمَلَكَ فَبَدَأَهُ بِالسَّلَامِ "، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَدِدْتُ لَوْ أَنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ، فَلَمَّا جَاءَ السَّمَاءَ السَّابِعَةَ قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُصَلِّي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَمَا صَلَاتُهُ؟ قَالَ: يَقُولُ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي، فَأَتَّبِعُ ذَلِكَ قَالَ: قُلْتُ: أُقَدِّمُ بَعْضَ ذَلِكَ قَبْلَ بَعْضٍ قَالَ: إِنْ شِئْتَ "
2898 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: کیا آپ تک رکوع میں پڑھے جانے والے کلمات تک کوئی روایت پہنچی ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! میں نے کہا: پھر آپ کیا پڑھتے ہیں؟ اُنہوں نے کہا: اگر مجھے جلدی نہ ہو اور میرے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ ہو جو مجھے مشغول کر دے تو پھر میں ایک مخصوص دعا پڑھتا ہوں میں یوں پڑھتا ہوں: تو پاک ہے اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ تین مرتبہ پڑھتا ہوں ۔ ہمارا پروردگار ایک ہے اور ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا ۔ یہ تین مرتبہ پڑھتا ہوں۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ تک یہ روایت پہنچی ہے ؟ کہ نبی اکرمﷺ ان کلمات میں سے کچھ رکوع میں پڑھا کرتے تھے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں ! میں نے کہا: پھر اس بارے میں آپ کس کی پیروی کرتے ہیں: اُنہوں نے جواب دیا: جہاں تک سبحانک وبحمدک لا الہٰ الا انت کاتعلق ہے تو ابن ابو ملیکہ نے سیدہ عائشہ کا یہ بیان مجھے بتایا ہے : ایک رات میں نے آپ ﷺ کو غیر موجود پایا تو میں نے یہ گمان کیا کے آپ اپنی کسی دوسری زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں ۔ میں نے آپ ﷺ کو تلاش کیا تو آپ ﷺ رکوع سجدہ کے عالم میں تھے اور یہ پڑھ رہے تھے سبحانک وبحمدک لا الہٰ الا انت سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کیا کر رہے ہیں؟ اور میں کیا سوچ رہی ہوں۔ عطا ء فرماتے ہیں جہاں تک ان کلمات کا تعلق ہے تو میں اس بارے میں سورہ بنی اسرائیل میں مذکور الفاظ کی پیروی کرتا ہوں۔ جہاں تک کا تعلق ہے تو میں ان دو کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اعتراف کرتا ہوں یہاں تک کہ جب صبح صادق ہو جاتی ہے تو پروردگار اوپر چلا جاتا ہے تو میں فرشتے کے ان کلمات کی پیروی کرتا ہوں۔ مجھ تک روایت پہنچی ہے جب نبی اکرم ﷺ کو معراج کروائی گئی تو آپ ﷺ جس بھی آسمان سے گزرتے تھے تو وہاں کے فرشتے آپ کو سلام کرتے تھے ۔ جب نبی اکرمﷺ چھٹے آسمان پر پہنچے تو حضرت جبرائیل نے آپ سے گزارش کی : یہ فرشتہ ہے آپ اسے سلام کیجیے لیکن اس فرشتے نے لپک کر نبی اکرمﷺ کو پہلے سلام کر دیا: تو نبی اکرمﷺ نےفرمایا: میری یہ خواہش تھی کہ اس کے سلام کرنے سے پہلے میں اسے سلام کرتا جب آپ ﷺ ساتویں آسمان پر تشریف لے گئے تو حضرت جبرائیل آپ کی خدمت میں گزار ش کی : بے شک اللہ تعالیٰ صلوٰۃ پڑھ رہا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا ہو بھی صلوٰۃ پڑھتا ہے ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس کی صلوٰۃ کیا ہوتی ہے ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا: وہ یہ فر ماتا ہے : تو میں ان کلمات کی پیروی کرتا ہوں۔ میں نے دریافت کیا: کیا میں ان کلمات کو آگے پیچھے کر کے پڑھ سکتا ہوں؟ عطا ء نے جواب دیا: اگر تم چاہو ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 2898
