مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ · حديث 7878
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قُعْنَبٍ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ، أَطْلُبُ أَبَا ذَرٍّ، فَلَمْ أَجِدْهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ أَبُو ذَرٍّ؟ قَالَتْ: ذَهَبَ يَمْتَهِنُ قَالَ: فَقَعَدْتُ فَإِذَا أَبُو ذَرٍّ قَدْ جَاءَ يَقُودُ جَمَلَيْنِ، قَدْ قَطَرَ أَحَدَهُمَا إِلَى ذَنَبِ الْآخَرِ فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ، فَأَنَاخَ الْجَمَلَيْنِ، وَحَمَلَ الْقِرْبَتَيْنِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَكَلَّمَ امْرَأَتَهُ فِي شَيْءٍ، فَكَأَنَّهَا رَدَّتْ إِلَيْهِ فَعَادَ وَعَادَتْ، فَقَالَ: مَا [ص:302] تَزْدِنَ عَلَى مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ، فَإِنْ أَقَمْتَهَا انْكَسَرَتْ وَفِيهَا بُلْغَةٌ وَأَوَدٌ»، ثُمَّ جَاءَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا مِثْلُ الْقَطَاةِ، فَقَالَ: كُلْ فَإِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، ثُمَّ رَجَعَ فَأَكَلَ مَعَهُ، فَقَالَ نُعَيْمٌ: إِنَّا لِلَّهِ يَا أَبَا ذَرٍّ مَنْ كَذَبَنِي مِنَ النَّاسِ، أَمَّا أَنْتَ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنْ تَكْذِبَنِي قَالَ: وَمَا كَذَبْتُكَ، بَلْ قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ أَكَلْتُ، وَالْآنَ أَقُولُ لَكَ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صُمْتُ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَوَجَبَ لِي صَوْمُهُ، وَحَلِّ لِي فِطْرُهُ
7878 – نعیم بن قعنب بیان کرتے ہیں: میں ربذہ کی طرف گیا میں حضرت ابو ذر غفاری کی تلاش میں تھا میں اُنہیں نہیں پا سکا میں نے اُن کی اہلیہ کو سلام کیا میں نے کہا: حضرت ابو ذر غفاری کہاں ہیں ؟ اُنہوں نے جواب دیا: وہ گھر کے کام کاج کے سلسلہ میں گئے ہیں ۔ تو میں بیٹھ گیا پھر اسی دوران حضرت ابو ذر غفاری دو اونٹوں کو ہانک کر لے آئے اُنہوں نے ایک کو دوسرے کی دم پر باندھا ہوا تھا اُن میں سے ہر ایک کی گردن میں ایک مشکیزہ تھا اُنہوں نے دونوں اونٹوں کو بیٹھا یا اور دونوں مشکیزے اُٹھا لیے ۔ میں نے اُنہیں سلام کیا اُنہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں بات چیت کی اُن کی اہلیہ نے اُنہیں کوئی جواب دیا حضرت ابو ذر غفاری نے اُس بات پر اصرار کیا اُس اہلیہ نے پھر اپنی بات دہرائی تو حضرت ابو ذر غفاری نے فرمایا: تم عورتیں بالکل ویسی ہی ہو جیسی نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : عور ت کی مثال پسلی کی مانند ہے اگر تم اُسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی اس کے ٹیرٹھے پن سمیت کے اس کے ساتھ گزارہ کرو ۔ پھر وہ ایک پیالہ لے کر آئے جس میں کھانے کی تھوڑی سی چیز تھی اُنہوں نے فرمایا: تم کھاؤ کیونکہ میں ن ے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ پھر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے پھر وہ واپس آئے پھر اُنہوں نے اُن کے ساتھ کھانا کھایا تو نعیم بن قنعب نے کہا: اے حضرت ابو ذر ! اللہ جانتا ہے کہ جو میرے ساتھ جو بندہ بھی جھوٹ بولے کوئی پرواہ نہیں ہے لیکن آپ کے بارے میں مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ جھوٹ بولیں گے ۔ حضرت ابو ذر غفاری نے کہا: میں نے تمہارے ساتھ جھوٹ نہیں بولا میں نے یہ کہا تھا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے پھر میں نے کھانا بھی کھا لیا میں اب بھی تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے میں ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتا ہوں تو میرے لیے روزہ رکھا بھی لازم ہے اور روزہ ترک کرنا بھی میرے لیے جائز ہے ۔
نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ ← أَبِي الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Three-day fasting door · Hadith 7878
