مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ أَصْبَحَ النَّاسُ صِيَامًا وَقَدْ رُئِيَ الْهِلَالُ · حديث 7338
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ رَأَيَا الْهِلَالَ، وَهُمَا فِي سَفَرٍ فَتَعَجَّلَا حَتَّى قَدِمَا الْمَدِينَةَ ضُحًى فَأَخْبَرَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ لِأَحَدِهِمَا: «أَصَائِمٌ أَنْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «لِمَ؟» قَالَ: لِأَنِّي كَرِهْتُ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صِيَامًا، وَأَنَا مُفْطِرٌ، فَكَرِهْتُ الْخِلَافَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لِلْآخَرِ: «فَأَنْتَ؟» قَالَ: أَصْبَحْتُ مُفْطِرًا قَالَ: «لِمَ؟» قَالَ: لِأَنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ فَكَرِهْتُ أنْ أَصُومَ، فَقَالَ لِلَّذِي أَفْطَرَ: «لَوْلَا هَذَا - يَعْنِي الَّذِي صَامَ - لَرَدَدْنَا شَهَادَتَكَ وَلَأَوْجَعْنَا رَأْسَكَ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَأَفْطَرُوا وَخَرَجَ»
7338 - ابو قلابہ بیان کرتے ہیں: دوآدمیوں نے پہلی کا چاند دیکھا وہ دونوں سفر کر رہے تھے وہ دونوں تیزی سے چلتے ہوئے چاشت کے وقت مدینہ منورہ آگئے ۔ ان دونوں نے حضرت عمر کو اس بارے میں بتایا ۔ تو حضرت عمر نے ان میں سے ایک سے دریافت کیا:: کیا تم نے روزہ رکھا ہوا ہے ؟ اُس نے جواب دیا: جی ہاں! حضرت عمر نے دریافت کیا: کیوں ؟ اُس نے کہا: کیونکہ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہو اور میں نے روزہ رکھا ہوا ہو تو میں نے لوگوں کے برخلاف کرنا پسند کیا ۔ حضرت عمر نے دوسرے شخص سے دریافت کیا: تم نے روزہ رکھا ہوا ہے ؟ اُس نے عرض کی : میں نے روزہ نہیں رکھا ! حضرت عمر نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ اُس نے کہا: کیونکہ میں نے پہلی کا چاند دیکھ لیا ہے اور مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں روزہ رکھوں۔؎
أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 7338
