مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ مَا تَسْقِي السَّمَاءُ · حديث 7242
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: طَعَامٌ مِنْ أَرْزَاقِ هَذِهِ السُّفُنِ، أَوْ أَعْطَانِيهِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ قَمْحٍ أَوْ تَمْرٍ فَأَمْسَكْتُهُ أُرِيدُ أَكْلَهُ، فَيَحُولُ عَلَيْهِ الْحَوْلُ أَوْ عَلَى مَا يَبْقَى مِنْهُ قَالَ: " لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهِ صَدَقَةٌ، لَعَمْرِي إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ لِنَبْتَاعَ الطَّعَامَ فَمَا نُزَكِّيهِ قَالَ: وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ بَيْعَهُ إِذَا بِعْتَهُ فَزَكَّهِ "
7242 – ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: ان کشتیوں میں سفر کرنے والوں کا اناج ہے یا امیر المومنین مجھے کوئی گندم یا کھجوریں دے دیتے ہیں اور میں اُسے اپنے پاس روک لیتا ہوں میں اُسے خود کھانا چاہتا ہوں اُس پر ایک سال گز جاتا ہے تو کیا اُن پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا: تم پر اس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی مجھے اپنی زندگی کی قسم! ہم بھی ایسا کرتے ہیں ہم بھی اناج خرید لیتے ہیں لیکن اُس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ہیں لیکن اگر تم اُسے فروخت کرنے کا ارادہ کرو گے تو اُس کی زکوٰہ ادا کرو گے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 7242
