مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ مَوْضِعِ الصَّدَقَةِ، وَدَفْعِ الصَّدَقَةِ فِي مَوَاضِعِهَا · حديث 6927
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَرِّرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، أَنَا وَشَيْخٌ أَكْبَرُ مِنِّي قَالَ: حَسِبَت أَنَّهُ قَالَ: ابْنُ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّدَقَةِ أَدْفَعُهَا إِلَى الْأُمَرَاءِ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: قُلْتُ: وَإِنِ اشْتَرَوْا بِهِ الْفُهُودَ، وَالْبِيزَانَ قَالَ: «نَعَمْ»، فَقُلْتُ لِلشَّيْخِ حِينَ خَرَجْنَا: تَقُولُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ؟ قَالَ: لَا، فَقُلْتُ أَنَا لِمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ: أَتَقُولُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ؟ قَالَ: لَا
6927 – میمون بن مہران بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمر کی خدمت میں حاضر ہوا میں تھا اور میرے ساتھ ایک عمر رسیدہ شخص تھا جو عمر میں مجھ سے بڑا تھا ۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ اُنہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ سعید بن مسیب تھے ۔ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا میں اسے حکمرانوں کے سپرد ادا کردوں ؟ اُنہوں نے کہا: جی ہاں! میں نے کہا: خواہ وہ لوگ اُس کے ذریعہ شیر اور باز خرید لیں ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! راوی بیان کرتے ہیں: جب ہم وہاں سے نکلے تو میں نے اپنے ساتھی بزرگ سے دریافت کیا: آپ کی بھی وہی رائے ہے ؟ جو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! راوی بیان کرتے ہیں: میں نے میمون بن مہران سے دریافت کیا: کیا آپ کی بھی وہی رائے ہے ؟ جو حضرت عبداللہ بن عمر کی ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں!
لَا۔ ← ابْنِ عُمَرَ ← لِمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ: أَتَقُولُ مَا ← لَا، فَقُلْتُ ← ابْنِ عُمَرَ ← «نَعَمْ»، فَقُلْتُ لِلشَّيْخِ حِينَ خَرَجْنَا: تَقُولُ مَا ← قُلْتُ: وَإِنِ اشْتَرَوْا بِهِ الْفُهُودَ، وَالْبِيزَانَ ← الصَّدَقَةِ أَدْفَعُهَا إِلَى الْأُمَرَاءِ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» ← ابْنُ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلْتُهُ ← حَسِبْتُ أَنَّهُ ← وَشَيْخٌ أَكْبَرُ مِنِّي ← دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرَّرٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › Chapter of the location of charity, and payment of charity in its places · Hadith 6927
