مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ مَا يُعَدُّ وَكَيْفَ تُؤْخَذُ الصَّدَقَةُ؟ · حديث 6818
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: أَخْبَرَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالَ لَهُ دَيْسَمٌ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَّةِ - وَكَانَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ بَشِيرًا - قَالَ: أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا إِنَّ أَصْحَابَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدَّونَ عَلَيْنَا أَفَنَكْتُمُهُمْ قَدْرَ مَا يَزِيدُونَ عَلَيْنَا؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنِ اجْمَعُوهَا، فَإِذَا أَخَذُوهَا فَأْمُرْهُمْ فَلْيُصَلُّوا عَلَيْكُمْ»، ثُمَّ تَلَا: {وَصَلَّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ} [التوبة: 103] قَالَ: قُلْنَا إنَّ لَنَا جِيرَةً مِنْ بَنِي تَمْيمٍ لَا تَشِذُّ لَنَا شَاةٌ إِلَا ذَهَبُوا بِهَا، وَإِنَّهَا تُخْفَى لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ أَشْيَاءُ، أَفَنَأْخُذُهَا؟ قَالَ: «لَا»
6818 - حضرت بشیر بن خصایہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرمﷺ نے اُن کا نام بشیر رکھا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کی : زکوٰۃ وصول کرنے والے شخص اگر ہمارے ساتھ زیاتی کرتے ہیں تو وہ جتنی زیادہ ادائیگی ہم سے لیتے ہیں کیا ہم اُتنے حصہ کو چھپا لیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں! بلکہ تم اُن جانوروں کو جمع کرو جب زکوٰۃ وصول کر لیں تو تم اُن لوگوں کو یہ کہو کہ وہ تمہارے لیے دعائے رحمت کریں پھر نبی اکرمﷺ نے یہ بات تلاوت کی : اور تم اُن کے لیے دعائے رحمت کرو بےشک تمہاری دعا اُن کے لیے سکون کا باعث ہو گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی : ہمارا ایک مزدور ہے جو ایک تمیم سے تعلق رکھتا ہے جو بھی بکری ہمارے ہاں بچہ دیتی ہے وہ لوگ اُس کو لے جاتے ہیں اور ہمارے سامنے اُن کے اموال میں سے کچھ چیزیں پوشیدہ رہتی ہیں تو کیا ہم اُسے وصول کر لیں ؟ نبی اکرمﷺ نے جواب دیا: جی نہیں!
أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا ← بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَّةِ،وَكَانَ أَتَى النَّبِيَّ فَسَمَّاهُ بَشِيرًا، ← شَيْخٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ دَيْسَمٌ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › Chapter of what is prepared and how is charity received? · Hadith 6818
