مصنف عبدالرزاق · كِتَابٌ الْمُكَاتَبِ ‹ بَابٌ: لَا يُبَاعُ الْمُكَاتَبُ إِلَّا بِالْعُرُوضِ، وَالرَّجُلُ يَطَأُ مُكَاتَبَتَهُ، وَالْمُكَاتَبَيْنِ يَبْتَاعُ أَحَدُهُمَا صَاحِبُهُ · حديث 15810
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: «إِذَا ابْتَاعَ الْمُكَاتَبَانِ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، هَذَا هَذَا مِنْ سَيِّدِهِ، وَهَذَا هَذَا مِنْ سَيِّدِهِ، فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ»، قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: " الْوَلَاءُ لِلسَّيِّدِ الْمُبْتَاعِ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا ابْتَاعَ هَذَا مَا عَلَى الْمُكَاتَبِ، فَالْوَلَاءُ لِلسَّيِّدِ "
16810 - معمر نے قتادہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جب دو مکاتبہ غلاموں میں سے کوئی ایک دوسرے کو خرید لے ان میں سے ایک نے دوسرے کو اپنے آقا سے خریدا اور دوسرے نے پہلے کو اپنے آقا سے خریدا ہوا تو پہلے والا سودا درست شمار ہو گا۔ معمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے اہل مدینہ میںسے ایک صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے خرید نے والے آقا کو ولا ء نصیب ہو گی یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو اس چیز کے عوض میں خریدا ہے جو مکاتب کے ذمے تھی تو اس ا عتبار سے ولا ء آقا کے لئے ہو گی ۔
قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Library books › Chapter: Offices are only sold through offers, and men tread their books, and two offices buy one of them. · Hadith 15810
