مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الشَّهَادَاتِ ‹ بَابٌ: لَا يُقْبَلُ مُتَّهَمٌ، وَلَا جَارٌّ إِلَى نَفْسِهِ، وَلَا ظِنِّينٌ · حديث 15372
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: " إِذَا طَعَنَ الرَّجُلُ فِي الشَّاهِدِ قَالَ: لَا أُجِيزُ عَلَيْكَ شَهَادَةَ خَصْمٍ، وَلَا دَافِعِ مَغْرَمٍ، وَلَا عَبِيدٍ، وَلَا أَجِيرٍ، وَلَا شَرِيكٍ، وَأَنْتَ فَسَلْ، فَإِنْ قِيلَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ فَرَقُوا أَنْ يَقُولُوا: مُرِيبٌ، فَلَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُ، وَإِنْ قِيلَ: مَا عَلِمْنَاهُ إِلَّا عَدْلًا مُسْلِمًا، فَهُوَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ كَمَا قَالُوا "
ایوب نے ابن سیرین کے حوالےسے قاضی شریح کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : جب کوئی شخص کسی گواہ کے بارے میں الزام عائد کر دے تو قاضی شریھ یہ کہتے تھے : میں مقابل فریق کی گواہی یا ادائیگی کو پرے کرنے والے کی یا غلام کی یا مزدور کی یا شراکت دار کی گواہی تمہارے خلافت درست قرار دوں گا ۔
إِذَا طَعَنَ الرَّجُلُ فِي الشَّاهِدِ ← شُرَيْحٍ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 15372
