مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الشَّهَادَاتِ ‹ بَابٌ: لَا يُقْبَلُ مُتَّهَمٌ، وَلَا جَارٌّ إِلَى نَفْسِهِ، وَلَا ظِنِّينٌ · حديث 15360
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ: " أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَوِي الْعُدُولِ مِنَ الشُّهَدَاءِ، وَتَلَا: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] الْآيَةُ، فَيَنْظُرُ امْرُؤٌ عَلَى مَا يَشْهَدُ وَيَفْهَمُ "
ابن جریح بیان کرتے ہیں: عمرو بن شعیب نے یہ بات بیان کی ہے : اللہ تعالیٰ نے گواہوں میں سے عادل گواہوں کے بارے میں حکم دیا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہدو اور اس کے نام کی قسموں کےعوض م،یں تھوڑی قیت خرید لیتے ہیں تو آدمی اس بات کا جائزہ لے گا کہ وہ کیا گواہی دے رہا ہے ؟ اور کیا سمجھ رہا ہے ؟
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Book of testimonies › Bab: The accuser will not be accepted, nor is there a neighbor to himself, and no suspicion · Hadith 15360
