أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ , عَنْ عِيسَى , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: كَانَ عُمَرُ كَرِهَ الْكَلَامَ فِي الْجَدِّ حَتَّى صَارَ جَدًّا فَقَالَ لَهُ: كَانَ مِنْ رَأْيِي , وَرَأْيِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ الْجَدَّ أَوْلَى مِنَ الْأَخِ , وَأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الْكَلَامِ فِيهِ , فَخَطَبَ النَّاسَ , ثُمَّ سَأَلَهُمْ هَلْ سَمِعْتُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطَاهُ الثُّلُثَ» , قَالَ: مَنْ مَعَهُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي , قَالَ: ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ أَيْضًا , فَقَالَ رَجُلٌ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ السُّدُسَ» , قَالَ: مَنْ مَعَهُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي فَسَأَلَ عَنْهَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ , فَضَرَبَ لَهُ مَثَلَ شَجَرَةٍ خَرَجَتْ لَهَا أَغْصَانٌ , قَالَ: فَذَكَرَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ , «فَجَعَلَ لَهُ الثُّلُثَ» , قَالَ الثَّوْرِيُّ: وَبَلَغَنِي أَنَّهُ قَالَ لَهُ: «يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ شَجَرَةٌ نَبَتَتْ فَانْشَعَبَ مِنْهَا غُصْنٌ , فَانْشَعَبَ مِنَ الْغُصْنِ غُصْنَانِ , فَمَا جَعَلَ الْغُصْنَ الْأَوَّلَ أَوْلَى مِنَ الْغُصْنِ الثَّانِي؟ وَقَدْ خَرَجَ الْغُصْنَانِ مِنَ الْغُصْنِ الْأَوَّلِ» قَالَ: ثُمَّ سَأَلَ عَلِيًّا فَضَرَبَ لَهُ مَثَلَ وَادٍ سَالَ فِيهِ سَيْلٌ , فَجَعَلَهُ أَخًا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ سِتَّةٍ , «فَأَعْطَاهُ السُّدُسَ» , وَبَلَغَنِي عَنْهُ أَنَّ عَلِيًّا حِينَ سَأَلَهُ عُمَرُ جَعَلَ لَهُ سَيْلًا سَالَ , وَانْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَةٌ , ثُمَّ انْشَعَبَتْ [ص:266] شُعْبَتَانِ , فَقَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ مَاءَ هَذِهِ الشُّعْبَةِ الْوُسْطَى يَبِسَ أَكَانَ يَرْجِعُ إِلَى الشُّعْبَتَيْنِ جَمِيعًا؟» قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَكَانَ زَيْدٌ يَجْعَلُهُ أَخًا حَتَّى يَبْلُغَ ثَلَاثَةً هُوَ ثَالِثُهُمْ , فَإِنْ زَادُوا عَلَى ذَلِكَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ وَكَانَ عَلِيٌّ يَجْعَلُهُ أَخًا مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ سِتَّةٍ هُوَ سَادِسُهُمْ , يُعْطِيهِ السُّدُسَ , فَإِنْ زَادُوا عَلَى سِتَّةٍ أَعْطَاهُ السُّدُسَ , وَصَارَ مَا بَقِيَ بَيْنَهُمْ "
19058 - امام شعبی بیان کرتے ہیں: حضرت عمر دادا کے بارے میں کلام کرنے کو نا پسند کرتے تھے یہاں تک کہ جب وہ خود دادا بن گئے تو انہوں نے فرمایا: پہلے میری بھی یہی رائے تھی اور حضرت ابو بکر کی بھی یہی رائے تھی کہ دادا بھائی سے زیادہ حق دار ہو گا لیکن اس کے بارے میںمزید تحقیق کی ضرورت ہے پھر انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہد ریافت کیا : کیا تم میں سے کسی نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے ؟ تو ایک صاحب کھڑے ہوئے تو انہوں نے بتایا: کہ کیا مت میں سے کسی نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے تو ایک صاحب کھڑے ہوئے تو انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ نے اس کو ایک تہائی حصہ دیا تھا حضرت عمر نے دریافت کیا : اس دادا کے ساتھ اور کون تھا ؟ اس نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد حضرت عمر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو ایک شخص نے بتایا : میں نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا جب آپﷺ نے دادا کو چھٹا حصہ دیا تھا حضرت عمر نے دریافت کیا: اس کے ساتھ اور کون تھا ؟ اس نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم حضرت عمر نے حضرت زید بن ثابت سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے حضرت عمر کے سامنے درخت کی مثال پیش کی جس میں سے ٹہنیاں نکلتی ہیں راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے اس کے بعد کوئی چیز ذلر لہ تھی جو مجھے یاد نہیں رہی بہر حال اس سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ دادا کو ایک تہائی حصہ ملنا چاہیے ۔
الشَّعْبِيِّ، ← عِيسَى؛ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Surplus › Chapter of the imposition of grandfather · Hadith 19058